کوئٹہ: پاکستان لٹریچر فیسٹیول 2024 “ ( کوئٹہ چیپٹر) ادب و ثقافت کے مختلف رنگ بکھیرتے ہوئے اختتام پذیر ہوگیا
پاکستان لٹریچر فیسٹیول (کوئٹہ) امن کا پیغام لے کر آیا ہے، صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ
دہشت گردی کے واقعات پر ڈائیلاگ کے ذریعے قابو پایا جاسکتاہے، وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی
آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیر اہتمام ”پاکستان لٹریچر فیسٹیول 2024 “ ( کوئٹہ چیپٹر) ادب و ثقافت کے رنگ بکھیرتے ہوئے اختتام پذیر ہوگیا، اختتامی تقریب میں وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے خصوصی شرکت کی جبکہ صدر آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی محمد احمد شاہ نے ان کا بھرپور استقبال کیا، صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے کوئٹہ میں پاکستان لٹریچر فیسٹیول کا انعقاد پر حکومت بلوچستان اور بیوٹمز یونیورسٹی کے وائس چانسلر خالد حفیظ سمیت تمام سیکورٹی اہلکاروں کا شکر یہ ادا کیا جنہوں نے انتہائی سخت سیکورٹی انتظامات کیے، انہوں نے کہاکہ ہم یہاں امن کا پیغام لے کر آئے ہیں، انور مقصود، اور ماہرہ خان سمیت تمام ادیبوں نے پاکستان کو جوڑنے کی کوشش کی ہے، وزیراعلیٰ بلوچستان کی شرکت سے نوجوانوں کا حوصلہ بلند ہوا ہے، وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے ادب ، آرٹ ، شوبز اور صحافت سے وابستہ لوگوں کو کوئٹہ لے کر آئے، انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں پنجابی اور دیگر زبانوں کے اساتذہ کو باہر نکالنے کے بعد ہمارا زوال شروع ہوا، ہم دنیا کی واحد قوم ہیں جو اپنے استاد کو بھی قتل کردیتے ہیں تو ہم تعلیمی میدان میں کیسے آگے جاسکتے ہیں، پروفیسر ناظمہ طالب اپریل 2009ءمیں بے دردی سے ماری گئیں ان کا کیا گناہ تھا، آج صحت اور تعلیم لاپتہ ہیں یہ بگاڑا پیدا کرنے کے لیے لاہور سے کوئی پنجابی وزیراعلیٰ نہیں آیا، یہ سارا نظام ہم نے خود تباہ کیا ، بلوچستان کے لوگ اس کے ذمہ دار ہیں، انہوں نے کہاکہ دہشت گردی کے واقعات کو روکنے کے لیے ڈائیلاگ کے ذریعے حل چاہتا ہوں، عثمان لالہ میرے بہترین دوست تھے، میں اس وقت حکومت میں نہیں تھا، میں آج بھی لالہ کی جوڈیشنل انکوائری کرانے کے لیے تیار ہوں، انہوں نے کہاکہ ہمارے نوجوان حکومت سے خفا ہیں، ڈائیلاگ کے ذریعے معاشرے میں بدلاﺅ لایا جاسکتا ہے، ہماری نوجوان نسل ہماری طاقت ہے ہم اس سے بے انتہا محبت کرتے ہیں، انہوں نے کہاکہ بلوچستان کے نوجوانوں نے جس طرح پاکستان لٹریچر فیسٹیول میں خواتین کا احترام کیا جس پر بحیثیت پاکستانی مجھے آپ پر فخر ہے مگر ماہرہ خان کے ساتھ جو ناخوشگوار واقعہ پیش آیا اس کی بھرپور مذمت کرتا ہوں اور ماہرہ خان سے معافی کا طلب گار ہوں، انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ اسٹیٹ آف قلات کا زبردستی الحاق کیا گیا تھا،بلوچستان کی تاریخ کو ہم نے خود ڈیزائن کیا ، یوتھ ڈگری لے کر دربدر پھرتی رہے گی اور نوکریاں بیچیں گے تو نوجوان نسل کیسے موجودہ حالات کا مقابلہ کرے گی، انہوں نے کہاکہ میں بلوچستان میں رہنے والے ہر شہری کا تحفظ چاہتا ہوں ، بلوچستان کی حکومت بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل نکالنا چاہتی ہے، ہمیں حکومت اور نوجوانوں کے درمیان فاصلہ کم کرنا ہوگا، بلوچ کو حقوق بندوق سے نہیں ملے گا، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ میری ساری ہمدردی چمن کے لوگوں کے ساتھ ہے، بلوچستان میں دھماکہ یا شہادتیں ہوجائیں تو مین اسٹریم میڈیا آتا ہے، لاپتہ لوگوں کو اسٹیبلش کرنے کی بجائے انویسٹی گیٹو جرنلزم کی ضرورت ہے، سوشل میڈیا میں ہر شخص جرنلسٹ بن گیا اور بغیر تحقیق کے Aiکے دلدل میں پھنستا چلا گیا، انہوں نے کہاکہ میں وعدہ کرتا ہوں آپ سے چاہے کچھ بھی ہوجائے میں نوکری نہیں بکنے دوں گا، ان کالی بھیڑوں کو باہر نکلانے کے لیے آپ لوگوں کو آگے آنا ہوگا، آخر میں بشریٰ انصاری، عدنان صدیقی کے ساتھ بھی سیشن کا انعقاد کیاگیا ، فیسٹیول کا اختتام مشاعرے پر ہوا جس میں معروف شاعر انور شعور،ڈاکٹر پیرزادہ قاسم رضا صدیقی، عباس تاش، فواد حسن فواد، ناصرہ زبیری، جاوید صبا، پیرزادہ سلمان، تہذیب حافی، حمیدہ شاہین، شکیل جاذب، محسن شکیل، احمد سلمان، عمیر نجمی، محسن چنگیزی، وحید نور، قندیل بدر، صادق مری، انجیل شفا، سرور جاوید، تسنیم صنم و دیگر نے اشعار پیش کیے جس پر شرکاءنے تالیاں بجا کر خوب داد دی۔ مشاعرے میں نظامت کے فرائض عنبرین حسیب عنبر اور شکیل خان نے کی، فیسٹیول کے آخری روز کوئٹہ کے شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی ،



