جمیعت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ آج تہذیب کا دشمن جیل میں پڑا ہے، آج ان پر ایسے مقدمات بن رہے ہیں جن کا ہم تو سوچ بھی نہیں سکتے۔ بنوں کے اسپورٹس کمپلیکس میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہم تعصب کی سیاست نہیں کرتے، ایک آدمی آتا ہے اور یہودی ایجنڈا لاتا ہے مگر ہم نے اس کو روکا، آج ہماری سالانہ ترقی کو اس شخص نے منفی تک پہنچایا۔
سربراہ جے یو آئی ف کا کہنا ہے کہ پاکستان کو یہ شخص 7 ٹکڑوں میں تقسیم کرنا چاہتا تھا، ریاست مدینہ کے حوالے سے کوئی سوچ نہیں رکھتا تھا، اب جب قانون حرکت میں آیا تو کہتا ہے جھوٹے مقدمات ہیں، کسی نے پوچھا ریاست مدینہ کیا ہوتی ہے تو کہا کہ قانون سب کیلئے ایک ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ آج ہمیں ایک حقیر نظر سے دنیا میں دیکھا جا رہا ہے، ہم سب مسلمان ہیں، مسلمان ہونے کے ناطے ہم کلمہ بھی پڑھتے ہیں زکوٰۃ بھی دیتے ہیں، امن ہوگا تو جان محفوظ ہوگی، مال محفوظ ہوگا تو خوشحالی ہوگی۔
مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ آج امریکا میں فوج میں لوگ بھرتی نہیں ہو رہے، آج امریکا سپر پاور نہیں ہے، امریکا سپر پاور نہیں رہا وہ افغانستان کا مقابلہ نہیں کرسکتا، پہلے افغانستان خوشحال تھا لیکن بدامنی اور بیروزگاری سے تباہ ہوا، آج پاکستان میں بدامنی روز بروز بڑھتی جا رہی ہے، امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہو رہا ہے، ہمارا آئین کہتا ہے کہ ملک میں اسلامی نظام ہوگا۔



