پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے کہا ہے کہ 2018میں سابق چیئرمین پی ٹی آئی سلیکٹڈ وزیراعظم تھے ، ہماری جیتی ہوئی سیٹیوں کو ہروا دیا گیا، اور آرٹی ایس کو بند کر دیا گیا تھا۔
سابق وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ 9مئی کی سازش میں شامل لوگ کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں کیونکہ جو ملک کا حال ہوا وہ پوری قوم نے دیکھا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عدم اعتماد کی تحریک کیلئے ووٹ ا ن لوگوں نے دینا تھا جو پارلیمان کے اندر تھے، مجھے پی ٹی آئی کے لوگ کہتے تھے کہ ہم سابق چیئرمین پی ٹی آئی کی حکومت سے وہ تنگ ہیں، میں ان میں سے کسی کا نام نہیں لینا چاہتا کیونکہ یہ مناسب نہیں ہو گا۔ اس وقت جنرل باجوہ نے کہا تھا اگر عدم اعتماد نہیں لائیں گے تو فوری الیکشن کریں گے۔
میرے پارٹی کے قائد میاں نوازشریف الیکشن چاہتے تھے،لیکن ہماری اجتماعی سوچ تھی اور سب نے کہا عدم اعتما د کی تحریک لانا ہمارا حق ہے۔
شہباز شریف نے کہنا تھا کہ نوازشریف نے کبھی افواج پاکستان کے سپہ سالار کیخلاف بات نہیں کی، نوازشریف کی حکومت 3 بار ختم کی گئی، لیکن جس طرح سابق چیئرمین پی ٹی آئی بات کرتے تھے نوازشریف نے کبھی ایسی بات نہیں کی ہے ۔
نوازشریف کو ایک جھوٹے مقدمے میں دھرا گیا، پانامہ میں ان کا نام بھی نہیں تھا۔ ہر منصوبے کے اوپر نوازشریف کی تختی تھی، ان پر تو کوئی رحم نہیں کیا گیا، نوازشریف کو باہر جانے کی اجازت سابق چیئرمین پی ٹی آئی کی کابینہ نے دی۔
صدر مسلم لیگ ن کے صدر کا کہنا تھا کہ اگر میرے اکاونٹ میں کوئی ٹی ٹیز آئی ہیں تو میں ابھی سیاست چھوڑ دوں گا، حمزہ کے اکاونٹ میں آئی ہیں یا نہیں یہ آپ ان سے پوچھیں۔
این سی اے نے کہا تھا کہ کوئی منی لانڈنگ نہیں ہوئی اور نہ ہی پیسوں کا کوئی غبن ہوا ہے، میراتو کسی بھی کاروبار سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
انکا مزید کہنا تھا کہ سابق چیئرمین پی ٹی آئی نے تو خانہ کعبہ کے ماڈل والی کھڑی بیچی اور اسلام آبا دکے ایک دکاندار سے جعلی رسید بنو لی تھی ، اگر نوازشریف نے توشہ خانہ سے گاڑی لی ہے تو قانون اپنا راستہ بنائے گا، جس کے بعد دودھ کا دودھ ،پانی کا پانی ہو گا۔



