پاکستانتازہ ترین

بجلی 7 روپے 13 پیسے فی یونٹ مزید مہنگی ہونے کا امکان

بجلی کی قیمت میں 7 روپے 13 پیسے فی یونٹ مزید اضافے کا امکان پیدا ہوگیا۔ تفصیلات کے مطابق سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی نے بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کے لیے درخواست نیپرا میں جمع کروادی ہے، جس میں نیپرا سے بجلی 7 روپے 13پیسے فی یونٹ مہنگی کر نے کی درخواست کی گئی ہے، اس پر درخواست سماعت 23 فروری کو ہوگی۔
بتایا گیا ہے کہ درخواست جنوری کی ماہانہ ایڈجسٹمنٹ کی مد میں جمع کرائی گئی ہے، جس کے منظور ہونے کی صورت میں بجلی کی قیمت میں اضافہ ہونے پر صارفین پر 66 ارب77 کروڑ روپے تک کا اضافی بوجھ پڑے گا۔ ایکسپریس نیوز نے رپورٹ کیا ہے کہ حکومت نے رہائشی صارفین پر بوجھ بڑھانے کی تیاری کرلی ہے جس کے تحت 400 یونٹس سے زیادہ بجلی استعمال کرنے والوں کے بل بڑھنے کا خدشہ ہے، جس کے بدلے میں آئی ایم ایف نے صنعتی شعبے پر سبسڈی کا بوجھ کم کرنے اور صنعتی شعبے کے بجلی کے بلوں میں کمی لانے کیلئے اسپیشل انویسٹمنٹ فیسلیٹیشن کونسل کی تجاویز پر غور کرنے پر رضامندی ظاہر کردی ہے، تجاویز پر عملدرآمد کے نتیجے میں صنعتی شعبوں کو بجلی کے بلوں کی مد میں 29 فیصد تک بچت ہوگی اور صنعتی شعبے پر سبسڈی کے بوجھ میں 91 فیصد تک کمی ہوگی۔

ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ صنعتی شعبے پر بوجھ کم کرنے کیلئے رہائشی صارفین پر بوجھ میں اضافہ کرنے کا منصوبہ آئی ایم ایف کو پیش کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں رہائشی صارفین کے بجلی کے بلوں میں خاطر خواہ اضافہ ہوجائے گا، اس طرح صنعتی شعبے کو 222 ارب روپے کی بچت ہوگی لیکن 400 یونٹس سے زیادہ بجلی استعمال کرنے والے صارفین پر 41 فیصد یا 22 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا، یہ اضافہ بجلی بلوں میں50 روپے سے 3 ہزار روپے تک کے فکس چارجز عائد کرنے کی وجہ بن سکتا ہے۔
رپورٹ سے معلوم ہوا ہے کہ صنعتی شعبے پر سے بجلی کے بلوں کا بوجھ کم کرنے، پی آئی اے کا قرض اور انرجی سیکٹر کا گردشی قرضہ ختم کرنے کے منصوبوں پر سفک کے 2 فروری کو ہونے والے اجلاس میں جائزہ لیا گیا، پاکستانی اور آئی ایم ایف انتظامیہ کے درمیان اگلے ہفتے ورچوئل مذاکرات ہوں گے، آئی ایم ایف اگلے ہفتے پی آئی اے کے 268 ارب روپے کے تجارتی قرضے سے متعلق حکومتی منصوبے اور انرجی سیکٹر کے 1.28 ہزار ارب روپے کے گردشی قرضوں کے خاتمے کے منصوبے کا جائزہ بھی لے گا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker