
جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ مجوزہ حکومتی آئینی ترامیم کا مقصد صرف حکومت کو تحفظ دینا تھا، چاہتے ہیں ادارے دائرہ اختیار میں کام کریں، یہ حکومت چلتی دکھائی نہیں دے رہی۔
مولانا فضل الرحمان نے ملتان میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو بولا تھا کہ پہلے مسودہ دکھائیں پھر بات ہوگی، ابتدا میں حکومت آئینی ترمیم کا کوئی مسودہ دکھانے پر تیار نہیں تھی۔
انہوں نے کہا کہ مسودے کی ایک نقل پیپلزپارٹی، ایک ہمیں دی گئی، یقین نہیں کہ دونوں کاپیاں ایک ہیں۔
مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو زرداری مجھ سے ملنے آئے، تو طے ہوا کہ ہم دونوں ہی اپنا اپنا مسودہ تیار کریں گے، آئین جو ہر شہری کے بینادی حقوق کا تحفظ کرتا ہے، اس میں معمولی سا ایک استثنیٰ ہے وہ بھی ملٹری کے حوالے سے ہے لیکن یہاں تو انسانی حقوق، بنیادی حقوق کا دائرہ محدود کر دیا گیا اور ملٹری کے کردار میں بہت اضافہ کیا گیا ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اداروں کے درمیان طاقت کا توازن نہیں بگڑنا چاہیے،چاہتے ہیں ادارے اپنے دائرہ اختیار میں کام کریں، یہ حکومت چلتی دکھائی نہیں دے رہی۔



