
بلوچستان حکومت نے ایک مرتبہ پھر صوبے بھر میں دفعہ 144 نافذ کر دی ہے۔ اعلامیے کے مطابق آئندہ پندرہ روز تک نہ صرف اسلحے کی نمائش اور پانچ یا اس سے زائد افراد کے اجتماع پر پابندی ہوگی بلکہ جلسے جلوس، احتجاجی مظاہرے، ماسک پہننا، منہ ڈھانپنا اور کالے شیشے والی گاڑیوں کا استعمال بھی ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ بظاہر یہ اقدامات امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے اٹھائے گئے ہیں مگر ان کا سب سے زیادہ اثر براہِ راست عام شہریوں کی روزمرہ زندگی پر پڑ رہا ہے۔سب سے بڑی مشکل ڈبل سواری پر پابندی کی شکل میں سامنے آئی ہے۔ ایک ماہ سے زائد عرصے سے جاری اس پابندی نے طلبہ، ملازمین اور عام لوگوں کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ بلوچستان جیسے صوبے میں جہاں پبلک ٹرانسپورٹ کی سہولت پہلے ہی ناکافی ہے، وہاں ڈبل سواری پر پابندی غریب اور متوسط طبقے کے لیے دوہرا عذاب بن چکی ہے۔ والد اپنے بچوں کو اسکول لے جانے سے قاصر ہیں، دفاتر جانے والے ملازمین اضافی کرایوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں اور ہنگامی حالات میں اسپتال پہنچنا بھی ایک کٹھن مرحلہ بن گیا ہے۔یہ درست ہے کہ صوبے میں امن و امان کا قیام اولین ترجیح ہونی چاہیے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس کا واحد حل عوام پر پابندیاں عائد کرنا ہے؟ کیا دہشت گرد یا جرائم پیشہ عناصر واقعی ان اقدامات سے متاثر ہوتے ہیں، یا پھر صرف عام لوگ ہی ذلیل و خوار ہوتے ہیں؟ عوام کے نزدیک حکومت کو چاہیے کہ وہ مخصوص ٹارگٹڈ اقدامات کرے، انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کو تیز کرے اور جرائم پیشہ عناصر کو قابو میں لائے، نہ کہ پورے صوبے کے باسیوں کو اجتماعی طور پر سزا دے۔اب وقت آ گیا ہے کہ پالیسی ساز ادارے اس حقیقت کو تسلیم کریں کہ ڈبل سواری جیسی پابندیاں وقتی ریلیف تو دے سکتی ہیں لیکن یہ مستقل حل نہیں۔ عوامی مشکلات کم کرنے اور ان کے اعتماد کو بحال رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ ایسے اقدامات کیے جائیں جن سے سیکیورٹی بھی بہتر ہو اور شہریوں کی روزمرہ زندگی بھی متاثر نہ ہو۔



