
بلوچستان میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے خلاف متعدد سیاسی جماعتوں نے بلوچستان ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا ہے۔ اس سلسلے میں سابق ڈپٹی میئر یونس بلوچ اور دیگر کی جانب سے عدالت عالیہ میں آئینی پٹیشن دائر کی گئی ہے، جس میں کوئٹہ میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کو رکوانے کی استدعا کی گئی ہے۔
پٹیشن میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ کوئٹہ میں موجودہ موسمی صورتحال اور ووٹر لسٹوں میں سنگین خامیوں کے باعث شفاف اور منصفانہ انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں،درخواست گزاروں کے مطابق کئی علاقوں میں شدید سردی، برف باری اور دشوار گزار حالات کے سبب عوام کیلئے پولنگ اسٹیشنز تک رسائی مشکل ہوگی، جس سے ووٹر ٹرن آؤٹ متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
پٹیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ موجودہ حالات میں انتخابات کے انعقاد سے صوبے میں امن و امان کی صورتحال خراب ہوسکتی ہے، جبکہ بعض حساس علاقوں میں سیکیورٹی خدشات بھی لاحق ہیں، جو کسی بھی ناخوشگوار واقعے کا سبب بن سکتے ہیں۔
یونس بلوچ کے مطابق اس آئینی درخواست میں بلوچستان عوامی پارٹی، پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) شامل ہیں، جبکہ عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) اور پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے بھی الگ الگ طور پر عدالت سے رجوع کیا ہے۔ تمام جماعتوں کا مشترکہ مطالبہ ہے کہ بلدیاتی انتخابات کو حالات سازگار ہونے تک مؤخر کیا جائے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل بلوچستان حکومت کی جانب سے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو بلدیاتی انتخابات مؤخر کرنے کی درخواست دی گئی تھی، تاہم الیکشن کمیشن نے اس درخواست کو مسترد کرتے ہوئے انتخابات شیڈول کے مطابق کرانے کا فیصلہ برقرار رکھا تھا۔
اب سیاسی جماعتوں کی جانب سے بلوچستان ہائیکورٹ سے رجوع کے بعد یہ معاملہ عدالتی فیصلے سے مشروط ہوچکا ہے، جس پر آنے والے دنوں میں اہم پیش رفت متوقع ہے۔ بولتا بلوچستان اس معاملے پر مزید تفصیلات اور عدالتی کارروائی سے اپنے ناظرین کو آگاہ کرتا رہے گا۔



