Quettaبلوچستان

کوئٹہ کے مختلف تعلیمی اداروں میں فرسٹ ایئر طلبہ سے ہزاروں روپے وصولی

والدین سراپا احتجاج، صوبائی وزیر تعلیم سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ

کوئٹہ کے مختلف تعلیمی اداروں میں فرسٹ ایئر کے طلبہ سے اضافی رقوم لینے کا سلسلہ جاری ہے جس پر والدین اور سرپرست شدید تشویش اور پریشانی کا شکار ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ان اداروں میں طلبہ سے تین سے پانچ ہزار روپے تک مختلف مدات میں وصول کیے جا رہے ہیں لیکن ان رقوم کے عوض طلبہ کو کسی قسم کی سرکاری یا باقاعدہ رسید فراہم نہیں کی جاتی۔ والدین کا کہنا ہے کہ بچوں سے لی جانے والی یہ رقوم اسٹیشنری، رجسٹریشن اور دیگر اخراجات کے نام پر طلب کی جاتی ہیں حالانکہ حکومت کی جانب سے ان سہولیات کے لیے پہلے ہی بجٹ مختص ہوتا ہے۔والدین نے الزام عائد کیا ہے کہ تعلیمی ادارے طلبہ پر بلا جواز مالی بوجھ ڈال رہے ہیں جس سے نہ صرف تعلیم مہنگی ہو رہی ہے بلکہ نادار اور مستحق طلبہ کے لیے تعلیم کے دروازے بند کرنے کے مترادف ہے۔ گورنمنٹ اسپیشل ہائر سیکنڈری اسکول کوئٹہ سمیت کئی سرکاری و نیم سرکاری اداروں میں یہ سلسلہ جاری ہے۔والدین نے صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید درانی، محکمہ تعلیم کے اعلیٰ حکام اور متعلقہ انتظامیہ سے فوری نوٹس لینے کی اپیل کی ہے تاکہ تعلیمی اداروں میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے اور طلبہ و والدین کو غیر ضروری مالی دباؤ سے نجات دلائی جا سکے۔ والدین کا کہنا ہے کہ اگر اس غیر قانونی عمل کو فوری طور پر نہ روکا گیا تو وہ احتجاجی لائحہ عمل اختیار کرنے پر مجبور ہوں گے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker