پاکستان میں چینی کا بحران شدت اختیار کرگیا، ہول سیل مارکیٹیں بند

پاکستان میں چینی کے بحران نے سنگین رخ اختیار کر لیا ہے اور ہول سیل مارکیٹوں کی بندش نے صورتحال کو مزید خراب کر دیا ہے۔
آل پاکستان ٹریڈرز ایسوسی ایشن کے صدر اجمل بلوچ نے حکومت کی پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد سمیت ملک بھر کی مارکیٹیں غیر معینہ مدت تک بند رہنے کا خدشہ ہے کیونکہ چینی کی فراہمی رُکی ہوئی ہے اور قیمتوں کے تعین میں شدید مسائل درپیش ہیں۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اجمل بلوچ نے کہا کہ موجودہ قیمتوں کا نظام کسی صورت سمجھ سے بالاتر ہے۔ دکاندار مہنگے داموں چینی خرید رہے ہیں لیکن نقصان میں فروخت پر مجبور ہیں، جو سراسر غیر منطقی اور ناقابلِ برداشت ہے۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر چینی کے ذخائر ہول سیل اور ریٹیل مارکیٹوں میں جاری کیے جائیں ورنہ دکاندار ملک بھر میں کریانہ اور ہول سیل مراکز بند کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔
اجمل بلوچ نے یہ بھی انکشاف کیا کہ وسطی پنجاب کی زیادہ تر شوگر ملیں اپنے ذخائر ختم ہونے کے باعث بند ہو چکی ہیں جبکہ جنوبی پنجاب میں مسلسل چار روز سے چینی کی سپلائی معطل ہے جس سے بحران مزید گہرا ہو رہا ہے۔
ان کے مطابق وسطی پنجاب کی تقریباً 70 فیصد شوگر ملیں غیر فعال ہو چکی ہیں۔
انہوں نے حکومت کے کریک ڈاؤن کو بھی غیر منصفانہ قرار دیا اور کہا کہ وہ دکانیں بھی سیل کی جا رہی ہیں جہاں چینی موجود ہی نہیں حالانکہ دکاندار اس مسئلے کے ذمہ دار نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ گرفتاریاں اور چھاپے اس مسئلے کا حل نہیں بلکہ اصل اسٹیک ہولڈرز سے مذاکرات ضروری ہیں۔
ماہرین کے مطابق حالیہ بحران کی بنیادی وجوہات میں حکومتی کمزور پالیسیاں اور شوگر مافیا کا سیاسی اثر و رسوخ شامل ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی مسائل نے بھی پیداوار کو متاثر کیا ہے اور رواں سال چینی کی متوقع پیداوار 70 لاکھ میٹرک ٹن سے کم ہو کر 58 لاکھ میٹرک ٹن تک رہنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
ادھر پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کی رپورٹ کے مطابق 21 اگست کو ختم ہونے والے ہفتے میں قلیل مدتی مہنگائی میں 2.3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کی بڑی وجہ چینی اور گیس کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ہیں۔
یہ لگاتار پانچواں ہفتہ ہے جس میں حساس قیمتوں کے اشاریے پر مبنی مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے۔

