میرا ایڈیٹر

تحریر: ڈاکٹر عابد میر
حیدرآباد سے صحافت سے تین سالہ "عشق” کا تجربہ لیے، 2003 میں، جب میں کوئٹہ پڑھنے آیا تو یہاں پہلا صحافتی میلاپ "مشرق” سے ہوا۔ یونیورسٹی کی طالب علمی کے دوران ڈھائی برس اس ادارے سے وابستگی کے بعد اپنی افتادِ طبع کے باعث ایڈیٹر سے اختلاف پہ نکل آیا۔ کچھ عرصہ ایک نجی کالج میں پڑھاتا رہا۔ مگر بے لگام جوانی اور ایک خوب صورت محبوبہ کا ساتھ میسر ہو تو نوکری جیسے جھمیلے کون کم بخت پالتا ہے۔ سو، چند ہی ماہ میں بے روزگار ہو گیا۔ فرصت کے ایام تھے۔ کوئٹے کی سڑکوں پہ دن بھر محبوبہ اور رات بھر یاروں کے ساتھ آوارہ گردی ہی کل وقتی مصروفیت تھی۔
انھی دنوں "مشرق” میں پروف سیکشن میں ہمارے انچارج رہنے والے جاوید اقبال صاحب رات دیر گئے پرنس روڈ کے ایک ہوٹل پہ چائے پیتے ملے۔ حال احوال پوچھا۔ میری فرصت کا سن کر بولے، "آساپ میں چلے آؤ، میں وہیں ڈیسک پہ ہوتا ہوں، تمہارے مزاج کا ادارہ ہے، خوش رہو گے۔” راہ چلتے نوکری کی پیش کش بھلا کتنی سنجیدہ ہو گی، یہ سوچ کر ہی میں نے بھی ہاں، ہوں کر کے اسے مذاق میں ٹال دیا۔ لیکن جس یار دوست نے بھی سنا، ادارے کے نام سے ہی فوراً جوائن کرنے کا مشورہ دیا۔ سو، انھی یاردوستوں کے مشورے سے میں ایک روز یونہی قسمت آزمائی کو چلا ہی گیا۔
پہلے ہی روز مجھے ڈیسک پہ بٹھا دیا گیا۔ اخبار کی دنیا میں یہ وہ کام تھا، جس سے مجھے کبھی رغبت نہ رہی۔ دوسروں کی خبر پہ سرخی جمانا، بھلا یہ بھی کوئی کام ہوا۔ اس سے تو پروف ریڈنگ بھی کہیں اچھی ہے، کچھ پڑھنے کو مل جاتا ہے، کچھ ٹھیک کرنے کو مل جاتا ہے۔ سو، دل نہ لگا۔ دو دنوں میں ہی سلسلہ منقطع کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ لیکن تیسرے ہی روز وہ واقعہ ہو گیا، جس نے میری صحافتی زندگی کی نئی راہ متعین کرنا تھی۔
میں ڈیسک پہ بیٹھا، خبروں کے ساتھ ساتھ کل سے اپنے نہ آنے کے جواز تراش رہا تھا، کہ اتنے میں ایک عمر رسیدہ "صاحب ٹائپ” آدمی ہاتھ میں کوئی خبر لیے، اس میں زبان کی غلطی کی دُہائیاں دیتا، نیوز روم میں داخل ہوا۔ سب کو سانپ سونگھ گیا۔ نیوز ایڈیٹر کو انھوں نے کھری کھری سنا دیں، وہ ہوں ہاں کرتے سنتے رہے۔ جی بھر کے بھڑاس نکالنے کے بعد ڈیسک پہ ایک طائرانہ اور مدیرانہ نظر دوڑائی۔ چشمے کے شیشوں کی اوٹ سے میری اَور دیکھتے ہوئے بولے، "یہ کوئی نیا چہرہ دِکھتا ہے، آپ کا تعارف بھئی؟” …”یہ عابدمیر ہیں، ہمارے ساتھ مشرق میں ہوتے تھے، دو دن ہوئے ہیں ابھی یہاں آئے ہوئے۔” جاوید اقبال صاحب نے مختصراً خود ہی میرا تعارف کروا ڈالا۔ "اچھا تو آپ ہیں عابدمیر؟ ذرا میری طرف آئیے گا آپ!” یہ کہہ کر صاحب اپنے کمرے کی طرف چل دیے۔
میں دم بخود…”یا اللہ خیر!”۔ مجھے بتایا گیا کہ یہ اخبار کے ایڈیٹر ہیں؛ رانا صاحب۔ "کون رانا صاحب؟” میں نے اپنی جہالت کا شاندار مظاہرہ کرتے ہوئے یونہی پوچھ ڈالا۔ "بلوچستان کے سب سے سینئر صحافی ہیں، اچھے آدمی ہیں۔ جائیے، مل آئیے۔” ایڈیٹروں سے متعلق میرا تجربہ کچھ اچھا نہ تھا۔ یہ "صحافتی بیوروکریٹس” ہیں۔ نہایت متکبرانہ لہجہ، رعونت سے بھرے ہوئے، گویا روئے زمین پہ ان سے زیادہ باخبر و باعلم آدمی کوئی نہیں۔ لیکن حکمِ حاکم تھا، مرگِ مفاجات… سو میں بادلِ نخواستہ سر نیہوڑائے، سہما سہما سا نیوز روم کے مقابل، ایڈیٹر کے کمرے میں تک چلا آیا۔
"بھئی آپ کو تو ہم کب سے پڑھتے ہیں۔ میرا خیال تھا میرا ہم عمر کوئی سفید ریش آدمی ہو گا۔ آپ تو نہایت جوان ہیں۔” میں ہکا بکا۔ کاٹوں تو بدن میں لہو نہیں، والی کیفیت۔ دم بخود کہ کیا کہوں۔ بات کی بات میں چائے آ گئی۔ خوب گپ شپ رہی۔ میں نے جب کل ہی ادارہ چھوڑنے کا اپنا ارادہ ظاہر کیا تو بولے، "مجھے اندازہ ہے، آپ تخلیقی آدمی ہیں، ڈیسک پہ بیٹھ ہی نہیں سکتے، آپ ایسا کریں کالم لکھنا شروع کر دیں۔” میں حیران کہ کہاں کالم نگاری کا راجا بھوج، کہاں میں معمولی مضامین لکھنے والا گنگو تیلی۔ میں نے تئیس برسوں میں تئیس کالم بھی نہ پڑھے ہوں گے، چند ایک مضامین لکھے تھے، اور بس۔ ہاں، کہانی کی بات اور ہے، وہ تو کوئی روز لکھنے کو کہے تو لکھ دوں۔
سو، میں منمنایا کہ فیچر نگاری میرا شوق رہا ہے، وہ کہیں تو کر دوں، یہ کالم نگاری والا بھاری پتھر مجھ سے اٹھنے کا نہیں۔ کہا، "کوئی مسئلہ نہیں، تھوڑے سے مضمون میں تھوڑی سی کہانی ڈال دو، کالم بن جائے گا۔ اور فیچر بھی لکھ دو، اس میں کیا مضائقہ ہے۔ سو، ہفتے میں دو کالم، دو فیچر۔ بس اِسی ہفتے آپ کا کالم آنا چاہیے۔”
…اُسی ہفتے کالم آ گیا۔ یوں میں کالم نویس بن گیا۔
فرصت کے ایام تھے۔ میں ہفتے میں چار، پانچ روز، دن کے وقت دفتر چلا آتا۔ ایڈیٹر صاحب کے پاس بیٹھ کر چائے پیتا۔ ان کی گپ شپ سنتا۔ وہیں بیٹھے بیٹھے نیم کہانی نما کالم لکھتا۔ شام گئے واپس ہوتا۔ اس محفل میں ادارتی صفحے کے سب ایڈیٹرز جعفر ترین اور سجاد حیدر بھی شامل ہوتے۔ کبھی کبھار ایڈیٹر اِن چیف بھی چل کر آتے۔ خوب گپ شپ رہتی۔ ہمیں ایک دوسرے کی صحبت راس آنے لگی۔ انھیں مجھ میں اپنی جوانی، اور مجھے ان میں اپنی "جوانی” نظر آتی۔ پھر جب کوئی دو برس بعد "آساپ” کا دفتر سریاب روڈ منتقل ہوا تو اس معمول میں بھی تعطل آیا ۔ لیکن محفلیں برقرار رہیں۔
میں بہت دیر سے جان پایا کہ مقبول بلوچ کے نام سے "آساپ” میں کالم لکھنے والا اخبار کا ایڈیٹر رانا مقبول اس وقت بلوچستان کا معمرترین ہی نہیں، سینئر ترین صحافی بھی ہے۔ یہ روزنامہ "مشرق” کے اس زمانے میں پہلے چیف رپورٹر اور پھر ایڈیٹر رہے، جن دنوں یہ این پی ٹی (نیشنل پریس ٹرسٹ) کے زیرانتظام سرکاری ادارہ ہوا کرتا تھا۔ یہ سن ستر کی دَہائی کی بات ہے۔ اور اس زمانے میں یہ بھاری تنخواہیں مع مراعات پاتے تھے۔
انھوں نے اپنے وقت کے نام ور صحافیوں کے ساتھ کام کیا۔ جن میں سے عنایت اللہ مرحوم کا تذکرہ اکثر کرتے ہیں۔ ان سے منسوب یہ خوبصورت فقرہ میں نے انھی سے سنا کہ ایڈیٹر ہوتے ہوئے ان کے کمرے میں جلی حروف میں یہ فقرہ فریم کیا ہوا لگا ہوتا تھا کہ، "ادارے کی ترقی کا دارومدار کارکنوں کی خوش حالی پر ہے۔” اپنے کیریئر کا عروج دیکھنے والے رانا صاحب سے میں ان کے زوال کے وقت متعارف ہوا۔ اپنے وقت کا نام ور صحافی اب بظاہر ایک مقامی روزنامے کی ایڈیٹری کم، چاکری پہ مامور تھا۔ لوگوں کے گھر آباد کرنے والا بے گھر ہو چکا تھا۔ کئی لوگوں کا سہارا بننے والا، خود سہارے کا منتظر تھا۔ دوسروں کو روزگار فراہم کرنے والا، اپنے روزگار کو پریشاں تھا۔
روایت یہ ہے کہ این پی ٹی کے خاتمے بعد اس سے وابستہ اداروں میں جب وہ پہلے سا کروفر نہ رہا تو رانا صاحب نے کسی ساتھی کے ساتھ مل کر اپنا اخبار جاری کرنے کا منصوبہ بنایا۔ یہ اخبار "کوہستان” کی صورت میں منظرِعام پہ آیا… اور آتے ہی بلوچستان کی صحافت میں دھوم مچا دی۔ کیا اخبار تھا…بلوچستان جیسے علاقے میں جہاں قاری ناپید ہے، اس اخبار نے سرکیولیشن کے اگلے پچھلے ریکارڈ توڑ ڈالے۔ خوب سرمایہ آیا۔ سرمایہ، انسانوں میں پھوٹ ڈالنے والی سب سے خطرناک وبا۔
سو، ان کے ساتھی کو کسی نے بتایا کہ سونے کی اس مرغی کے انڈے کے دو حصے کرنے کی بجائے ،دوسرا حصہ کھانے والے کا ہی صفایا کر دیا جائے۔ سدا سے لالچ کے مارے انسان کا جی للچایا۔ اس نے عدالت میں مقدمہ ڈال دیا۔ ہمارے اس شریف انسان نے، دنیا کے ہر شریف انسان کی طرح انسان پہ، دوست پہ، دوستی پہ بھروسا کرتے ہوئے اخبارکا ڈیکلریشن دوست کے نام کیا ہوا تھا۔ سو، قانون کی رو سے اس نے مقدمہ جیت لیا۔ اخبار اُس کا ہوا۔ لیکن پھر وہ اخبار ہی نہ رہا۔ چند ہی برسوں میں لوگ "کوہستان” کانام ہی بھول بھال گئے۔
بے روزگاری کا ایک طویل دور اِن پہ گزرا۔ جو کمایا تھا، خرچ کر ڈالا۔ کرنا خدا کا یہ ہوا کہ ان کا ایک اور قریبی دوست ان کا مکان گروی رکھوا کے بینک سے پیسے لے اڑا۔ بینک نے ان کا مکان قرقی کر ڈالا۔ یہ فٹ پاتھ پہ آ گئے۔ عدالتوں کے چکر کاٹنے کا واقعہ راوی کی اپنی زبانی سنیے۔ بتاتے ہیں:
"یہ کوئی پہلا واقعہ نہ تھا، کوہستان سے لے کر اس طرح کے کئی واقعات پیش آئے، لوگ میرے نام پہ قرضہ لے کے کھا گئے، میں عدالت میں مقدمے بھگتتا اور پیسے بھرتا رہا۔ بالآخر مکان بھی چلا گیا۔ میرے مقدمات اتفاق سے ایک ہی جج کے پاس جاتے رہے۔ وہ میرا پرانا واقف کار تھا۔ جب مکان بھی چلا گیا تو اس مقدمے کے فیصلے بعد اس نے مجھ سے کہا، "رانا، اب کم از کم آئندہ تم لوگوں پہ اندھا اعتبار تو نہیں کرو گے۔” میں نے مسکرا کر کہا، "آپ کیا سمجھتے ہیں، اپنے نقصان کے لیے میں انسانیت پہ بھروسا چھوڑ دوں؟ میرے ساتھ جس نے جو کیا، وہ جانے اس کا ایمان۔ میں پہلے سے زیادہ انسانوں پہ بھروسا کروں گا کہ یہ میرے ایمان کا حصہ ہے۔”
کون کہتا ہے کہ اچھائی اب محض کتابوں میں رہ گئی ہے! جھک مارتے ہیں وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ دوسروں کے فائدے میں اپنا نقصان کرنے والے انسانوں کی باتیں محض روایت ہیں۔ روایتوں کو زندہ جاوید دیکھنا ہو تو روایتوں کی سرزمین آئیے، بلوچستان آئیے۔ اہلِ بلوچستان سے ملیے۔ زندہ ایمان سے ملیے۔
۔۔۔۔۔۔۔
ہمارے ایمان کا یہ روشن ستارہ بھی کل ڈوب گیا۔
میرا ایڈیٹر، میرا بزرگ، میرا ساتھی مقبول رانا ایک لمبی عمر، بیماریوں والے لمبے روگ لیے کل ہمیشہ کے لیے رخصت ہو گیا۔
مجھے اس کی مشفقانہ دوستی پہ ہمیشہ ناز رہے گا۔
لو یو رانا صاحب
پرسکون رہیے!!



