عمر کا وہ سال جس کے بعد جسم بہت زیادہ تیزی سے بوڑھا ہونے لگتا ہے

عمر میں اضافے کے ساتھ تو ہر فرد ہی بوڑھا ہو جاتا ہے اور اس بڑھاپے سے بچنا کسی کیلئے بھی ممکن نہیں ۔
حال ہی میں کی گئی ایک تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ عمر کا ایک مخصوص سال ایسا بھی ہے جس کے بعد بڑھاپے کی جانب سے سفر کی رفتار زیادہ تیز ہو جاتی ہے۔
جرنل سیل میں شائع تحقیق
جرنل سیل میں شائع تحقیق کے مطابق 50 سال کی عمر کے بعد بڑھاپے کی جانب سفر اچانک تیز رفتار ہو جاتا ہے، کیوں کہ 50 سال کی عمر کے بعد جسمانی ٹشوز اور اعضا کی عمر تیزی سے بڑھنے لگتی ہے۔
فی الحال سائنسدان جسم کے انفرادی اعضا کی عمر میں اضافے کو زیادہ سمجھ نہیں سکے مگر اس نئی تحقیق میں وقت گزرنے کے ساتھ مختلف ٹشوز میں موجود پروٹینز میں آنے والی تبدیلیوں کی جانچ پڑتال کی گئی۔
اس مقصد کے لیے دماغی انجری کے سبب 14 سے 68 سال کی عمر کے درمیان انتقال کرجانے والے افراد کے اعضا کے ٹشوز کے نمونوں کا جائزہ لیا گیا، یہ نمونے دل، جگر، لبلبے، آنتوں، تِلی، لمفی نوڈز، پھیپھڑوں، جِلد اور مسلز وغیرہ کے تھے جبکہ خون کے نمونے بھی حاصل کیے گئے تھے۔
محققین نے ان جسمانی اعضا کے سسٹمز میں موجود پروٹینز کی فہرست بھی تیار کی اور پھر دیکھا گیا کہ عمر میں اضافے کے ساتھ ان پروٹینز کی سطح میں کیا تبدیلیاں آئی تھیں۔
بعد ازاں ان نتائج کا موازنہ امراض اور ان سے منسلک جینز کے ڈیٹا بیس سے کیا گیا جس سے دریافت ہوا کہ امراض سے منسلک 48 پروٹینز کی سطح میں عمر کے ساتھ اضافہ ہوتا ہے۔
تحقیق کے مطابق سب سے نمایاں تبدیلیاں 45 سے 55 سال کی عمر کے درمیان آتی ہیں، درحقیقت عمر کے اس حصے میں متعدد ٹشوز نمایاں تبدیلیوں سے گزرتے ہیں۔
ان نتائج کی تصدیق کے لیے محققین نے معمر چوہوں کے دل میں موجود ایک پروٹین کو حاصل کیا اور پھر اس پروٹین کو جوان چوہوں میں انجیکٹ کرکے جائزہ لیا، نتائج سے معلوم ہوا کہ ان جوان چوہوں کی جسمانی کارکردگی گھٹ گئی، گرفت کی مضبوطی میں بھی کمی آئی اور توازن بھی متاثر ہوا۔
محققین کی رائے
محققین کے مطابق ہماری تحقیق میں متعدد اعضا میں عمر کے ساتھ آنے والی تبدیلیوں کا جامع تجزیہ کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ تحقیق کے نتائج سے ممکنہ طور پر ایسی حکمت عملیوں کو مرتب کرنے میں مدد مل سکے گی جن سے عمر میں اضافے سے لاحق ہونے والی بیماریوں کی روک تھام کی جاسکے گی۔
امریکا کی اسٹینفورڈ یونیورسٹی کی تحقیق
اس سے قبل اگست 2024 میں امریکا کی اسٹینفورڈ یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ سست اور بتدریج سفر کی بجائے کم از کم 2 بار بڑھاپے کی جانب سفر بہت تیز رفتاری سے ہوتا ہے۔
اس تحقیق میں 25 سے 75 سال کی عمر کے 108 افراد کو شامل کرکے ان کے جسم مں موجود ایک لاکھ 35 ہزار مالیکیولز جبکہ جِلد اور معدے میں موجود بیکٹریا، وائرسز اور دیگر جرثوموں کی مانیٹرنگ کی گئی۔
ان افراد کے خون، فضلے اور جِلد کے نمونوں کا تجزیہ 7 سال تک ہر چند ماہ کے وقفے سے کیا گیا، تحقیق میں 44 سال اور پھر 60 سال کی عمر میں عمر میں اضافے سے متعلق تبدیلیوں کی 2 بڑی لہروں کو دریافت کیا گیا۔
نتائج سے یہ وضاحت بھی ہوتی ہے کہ مخصوص طبی مسائل بشمول ہڈیوں کی کمزوری اور امراض قلب کا سامنا مخصوص عمر میں ہونے کا خطرہ کیوں بڑھتا ہے۔
محققین نے بتایا کہ ہماری عمر میں وقت کے ساتھ نہ صرف بتدریج اضافہ ہوتا ہے بلکہ مخصوص برسوں میں چند ڈرامائی تبدیلیاں بھی آتی ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ 44 سال میں پہلی بار عمر میں اضافے کے حوالے سے ڈرامائی تبدیلیاں آتی ہیں اور پھر دوبارہ ایسا 60 سال کی عمر میں ہوتا ہے، تحقیق کے مطابق 40 کی دہائی کے وسط اور چھٹی دہائی کے شروع میں بیشتر مالیکیولز اور جرثوموں میں ڈرامائی رفتار سے تبدیلیاں آتی ہیں۔
اس تحقیق کے نتائج جرنل نیچر ایجنگ میں شائع ہوئے۔



