لو بلڈ پریشر کا عندیہ دینے والی 10 اہم نشانیاں

ہائی بلڈ پریشر کا ایک جان لیوا عنصر یہ ہوتا ہے کہ اکثر افراد کو اس سے لاعلم رہتے ہیں کہ وہ اس مرض کے شکار ہوچکے ہیں۔
درحقیقت ہائی بلڈ پریشر کے شکار لگ بھگ ایک تہائی افراد کو معلوم نہیں ہوتا کہ وہ اس بیماری سے متاثر ہیں۔
مگر لو بلڈ پریشر بھی ایک سنگین مسئلہ ہے جس کا سامنا متعدد افراد کو ہوتا ہے۔
بیشتر افراد اس کو نظر انداز کر دیتے ہیں کیونکہ اس کی علامات اکثر ایسی ہوتی ہیں جو دیگر امراض میں بھی نظر آتی ہیں۔
بلڈ پریشر کے جانچنے کے 2 پیمانے ہیں، ایک خون کا انقباضی دباؤ (systolic blood pressure) جو کہ اوپری دباؤ کے نمبر کا اظہار کرتا ہے۔
انقباضی دباؤ بنیادی طور پر دل کے دھڑکنے سے جسم کے مختلف اعضا تک پہنچنے والے خون کے دباؤ کو ظاہر کرتا ہے۔
دوسرا پیمانہ انبساطی دباؤ (diastolic blood pressure) ہے جو انسانی دھڑکنوں کے درمیان وقفے اور آرام کے نمبر ظاہر کرتا ہے۔
90/60 ایم ایم ایچ جی سے کم بلڈ پریشر کو لو بلڈ پریشر قرار دیا جاتا ہے اور اس کی علامات درج ذیل ہیں۔
سر چکرانا
سر چکرانا یا ہلکے پن کا احساس بھی بلڈ پریشر کی سطح میں کمی کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔
کئی بار تو بلڈ پریشر اتنا گھٹ جاتا ہے کہ لوگ بے ہوش ہو جاتے ہیں کیونکہ دماغ میں آکسیجن کی سطح میں نمایاں کمی آتی ہے۔
تھکاوٹ یا نقاہت
جسمانی کمزوری، تھکاوٹ یا نقاہت بھی بلڈ پریشر کی سطح کمی کا عندیہ دینے والی نشانی ہے۔
ذہنی الجھن
ذہنی الجھن اور سوچنے میں مشکلات یا توجہ مرکوز کرنے میں مشکلات کو بھی لو بلڈ پریشر کی ایک علامت قرار دیا جاتا ہے۔
اس کا سامنا اس وقت ہوتا ہے جب دماغ کی جانب خون کی روانی میں کمی آتی ہے اور دماغ کے لیے سوچنا مشکل ہو جاتا ہے۔
دل کی دھڑکن کی رفتار میں تبدیلیاں
دل کی دھڑکن اچانک تیز ہونا، تھم جانے جیسا احساس یا گھبراہٹ وغیرہ بھی لو بلڈ پریشر کی ایک اور علامت ہے۔
عام طور پر ایسا اس وقت ہوتا ہے جب جسم میں خون کی گردش گھٹ جاتی ہے اور دل تیزی سے دھڑک کر اس کمی کو پوری کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
بینائی دھندلانا
اچانک بینائی دھندلانا یا آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا جانا بھی لو بلڈ پریشر کی ایک اہم نشانی ہے۔
اس کی وجہ آنکھوں اور دماغ کے لیے خون کے بہاؤ میں کمی ہوتی ہے۔
سر، کندھوں یا گردن میں درد
کندھوں، گردن یا سر کے پچھے حصے میں تکلیف بھی اکثر لو بلڈ پریشر کی نشانی ہوتی ہے۔
ایسا اس وقت ہوتا ہے جب بیٹھنے یا لیٹنے کے بعد اٹھنے پر بلڈ پریشر میں اچانک کمی آتی ہے۔
قے یا متلی
قے اور متلی بھی لو بلڈ پریشر کی عام علامات ہیں۔
اس کا سامنا اس وقت ہوتا ہے جب معدے کی جانب خون کی گردش میں کمی آتی ہے جبکہ دماغ کے لیے بھی خون کا بہاؤ گھٹ جاتا ہے جس سے دماغ کے لیے قے یا متلی کو کنٹرول کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
ہاتھ پیر ٹھنڈے ہونا
ہاتھ پیر اکثر ٹھنڈے رہنا بھی لو بلڈ پریشر کی ایک علامت ہے، خاص طور پر دائمی لو بلڈ پریشر کی۔
یہ علامت اس وقت سامنے آتی ہے جب لو بلڈ پریشر کے باعث جسم اہم اعضا جیسے دماغ، دل، جگر اور گردوں کے لیے خون کا بہاؤ بڑھاتا ہے جبکہ ہاتھوں پیروں کے لیے خون کی روانی گھٹ جاتی ہے۔
اس کے نتیجے میں ہاتھ پیر اور جِلد معمول سے زیادہ ٹھنڈ محسوس کرنے لگتے ہیں۔
سانس لینے میں مشکلات
سانس پھول جانا یا سانس لینے میں مشکل محسوس ہونا بھی لو بلڈ پریشر کی ایک اہم نشانی ہے۔
سینے میں تکلیف یا کھچاؤ
سینے میں تکلیف یا کھچاؤ بھی لو بلڈ پریشر کی ایک ایسی نشانی ہے جو بہت زیادہ عام نہیں ہوتی اور اس کا سامنا اس وقت ہوتا ہے جب دل کے مسلز کے لیے خون کا بہاؤ گھٹ جاتا ہے۔
نوٹ: یہ مضمون طبی جریدوں میں شائع تفصیلات پر مبنی ہے، قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ کریں۔



