صحت

کیا سونف کا پانی صحت کیلئے مفید ہوتا ہے؟

دنیا میں متعدد افراد نہار منہ سونف سے تیار کردہ پانی پینا پسند کرتے ہیں۔

سونف ایک ایسی چیز ہے جو پاکستان میں لگ بھگ ہر گھر میں ہی موجود ہوتی ہے اور متعدد پکوانوں کی تیاری کے لیے بھی اسے استعمال کیا جاتا ہے۔

اس سے ہٹ کر سونف کو ماؤتھ فریشنر کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

سونف کا پانی یا وہ پانی جس میں سونف کو رات بھر کے لیے بھگو کر رکھا جاتا ہے، صحت کے لیے کافی مفید ثابت ہوتا ہے۔

سونف کے پانی کے فوائد
اسے پینے سے نظام ہاضمہ کو فائدہ ہوتا ہے کیونکہ یہ معدے کو ایسے مرکبات تیار کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے جو ہاضمے کے لیے اہم ہوتے ہیں۔

اسی طرح اگر آپ جسمانی وزن میں کمی لانا چاہتے ہیں تو سونف کا پانی پیٹ بھرنے کا احساس بڑھاتا ہے اور کھانے کی اشتہا کم کرتا ہے۔

یہ جسم میں گردش کرنے والے ایسے زہریلے اثرات کو بھی خارج کرتا ہے جو صحت کے لیے نقصان دہ ہوتے ہیں۔

سونف میں phytoestrogens نامی ایسے نباتاتی مرکبات موجود ہوتے ہیں جو جسم میں ہارمونز کے توازن کو برقرار رکھنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق سونف میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹس جیسے فلیونوئڈز، پولی فینولز اور کیورسٹین نہ صرف خلیات کو پہنچنے والے نقصان کی تلافی کرتے ہیں بلکہ امراض قلب اور کینسر جیسے امراض سے بچانے میں بھی کردار ادا کرتے ہیں۔

سونف کا پانی دل کی صحت کے لیے بہت زیادہ کارآمد ثابت ہوتا ہے کیونکہ یہ بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کی سطح کو کنٹرول کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

اگر آپ کو اکثر نتھنوں میں بلغم جمع ہونے کے مسئلے کا سامنا ہوتا ہے تو سونف کا پانی پینے سے نظام تنفس کو صاف رکھنے میں مدد ملتی ہے۔

اسی وجہ سے یہ سیال موسم سرما کے مہینوں میں کافی مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق سونف کی ایک بڑی خوبی پیٹ میں جمع ہونے والی اضافی گیس سے لڑنا ہے۔

اس میں موجود فائبر اور ورم کش خصوصیات گیس کے مسئلے سے تحفظ فراہم کرتی ہیں۔

اسی وجہ سے اکثر افراد سونف کو کھانے کے بعد کھاتے ہیں۔

سونف پیٹ پھولنے کے مسئلے سے بچانے میں بھی مدد فراہم کرتی ہے کیونکہ اس میں موجود فائبر سے گیس کم ہوتی ہے۔

ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ سونف میں موجود کیمیکلز سے غذائی نالی کے مسلز پرسکون ہوتے ہیں اور نظام ہاضمہ بہتر ہوتا ہے۔

پانی سے ہٹ کر سونف کو چائے میں بھی شامل کیا جاسکتا ہے یا ایسے ہی چبا کر کھانے سے بھی صحت کو فائدہ پہنچایا جاسکتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون طبی جریدوں میں شائع تفصیلات پر مبنی ہے، قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ کریں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker