انٹرنیشنلپاکستان

کابل میں ساتواں سہ فریقی مذاکراتی دور، خطے میں امن و استحکام کے لیے عزم کی تجدید

کابل:کابل میں چین، افغانستان اور پاکستان کی سہ فریقی اعلیٰ سطحی کانفرنس منعقد ہوگی جس میں سیاسی، اقتصادی اور علاقائی تعاون پر بات چیت ہوگی۔ یہ ساتواں مذاکراتی دور ہے جو خطے میں امن و استحکام کے لیے اہم ہے۔پاکستان اس فریم ورک  کا محور ہے اور سکیورٹی، کنیکٹیویٹی اور انسانی ہمدردی کے امور میں تسلسل کو یقینی بنا رہا ہے۔ چین نے بھی اس میں توازن کا کردار ادا کیا ہے اور پاکستان و عبوری افغان حکومت کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے میں مدد فراہم کی ہے۔

کابل کے اجلاس میں افغانستان کے چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) میں انضمام کو مضبوط کیا جائے گا، جس پر پہلی بار مئی 2025 میں اصولی طور پر اتفاق کیا گیا تھا۔ CPEC کے تحت افغانستان کی شمولیت پاکستان کے اس حکمت عملی وژن کی عکاسی کرتی ہے، جس کا مقصد افغانستان کو انزال سے نکال کر جنوبی اور وسطی ایشیا کے درمیان ایک پل بنانا ہے۔

کنیکٹیویٹی کے راستے، گوادر بندرگاہ تک رسائی اور توانائی کے منصوبے مشترکہ فوائد کے طور پر پیش کیے جا رہے ہیں، جو خطے کو مشترکہ خوشحالی کی طرف لے جائیں گے۔ افغانستان کی سی پیک میں شرکت سے روزگار، تجارت اور انفراسٹرکچر کی ترقی کو فروغ ملے گا، جس سے اس کی تنہائی کم ہوگی اور دہشت گردی کی بنیادیں کمزور ہوں گی۔

طالبان حکومت کے لیے بھی CPEC کنیکٹیویٹی سیاسی اور اقتصادی مدد فراہم کرے گی، خاص طور پر جب وہ بین الاقوامی پابندیوں اور تنہائی کا سامنا کر رہی ہے۔

پاکستان کے لیے یہ مذاکرات ذمہ دارانہ سفارت کاری کی علامت ہیں، جو افغانستان کو علاقائی اقتصادی فریم ورکس میں شامل کرتے ہوئے سرحدی سیکورٹی کے مسائل کو بھی حل کرتے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف تعاون اس کا مرکزی محور ہے، جس میں پاکستان، چین اور افغانستان مشترکہ طور پر تمام دہشت گرد گروہوں بشمول ٹی ٹی پی، ای ٹی آئی ایم اور آئی ایس کے پی کے خلاف موقف اختیار کر چکے ہیں اور بیرونی مداخلت روکنے کے لیے پابند عہد ہیں۔

دہشت گردی کے خلاف اس مشترکہ موقف سے یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ سہ فریقی مذاکرات محض رسمی بات چیت نہیں بلکہ سیکورٹی تعاون کا ایک فعال پلیٹ فارم ہے۔ ٹی ٹی پی کے محفوظ ٹھکانے، آئی ایس کے پی کی سرگرمیاں اور القاعدہ کی موجودگی جیسے مسائل اجلاس کے اہم ایجنڈے کا حصہ ہیں، جن کے علاوہ چینی شہریوں اور CPEC منصوبوں کے تحفظ کو بھی خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔

چین کے لیے افغانستان میں دہشت گردی کا خطرہ نہ صرف اس کے منصوبوں بلکہ ایغور برادری کی سلامتی کے لیے بھی ایک بڑا مسئلہ ہے، اور پاکستان بھی ان خدشات کا شریک ہے، جس کی وجہ سے سہ فریقی سیکورٹی تعاون انتہائی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔یہ سہ فریقی فورم تینوں ممالک کے لیے ایک فائدہ مند میکانزم ہے: پاکستان پل کا کردار ادا کر رہا ہے، چین توازن قائم کر رہا ہے، اور افغانستان کنیکٹیویٹی میں شراکت دار کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔
یہ مذاکراتی سلسلہ خطے میں پائیدار استحکام کے لیے واحد قابل عمل فریم ورک کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے، جو سکیورٹی کو خوشحالی سے جوڑتا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker