برطانیہ میں مہنگائی کی شرح میں توقعات سے زیادہ اضافہ

برطانیہ میں منہگائی کی شرح میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے۔
برطانوی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق جولائی 2025 میں منہگائی شرح توقعات سے زیادہ 3.8 فیصد رہی۔
فضائی سفر کے کرایوں اور کھانے پینے کی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ منہگائی کی وجہ بنا۔
درحقیقت یہ 19 ماہ میں مہنگائی کی بلند ترین سطح ہے، اس سے قبل برطانیہ میں جنوری 2024 میں منہگائی کی شرح 4 فیصد تک جاپہنچی تھی۔
رپورٹ کے مطابق جون اور جولائی کے دوران فضائی کرایوں میں 30 فیصد سے زائد اضافہ ہوا۔
اسی طرح ان دونوں مہینوں میں پٹرول کی قیمت میں 2 اورڈیزل کی قیمت میں 2.9 پنس فی لیٹراضافہ ہوا۔
کھانے پینے کی اشیا کی قیمتوں میں جولائی میں 4.9 فیصد اضافہ ہوا۔
چانسلر ریچل ریوز نے بتایا کہ زندگی گزارنے کے اخراجات میں کمی کے لیے بہت کچھ کرنا باقی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے پبلک فنانس کو مستحکم بنانے کے لیے مضبوط فیصلے کیے، گزشتہ حکومت کے دور میں تو مہنگائی ڈبل ڈیجٹ تک جاپہنچی تھی۔
دوسری جانب شیڈو چانسلر میل اسٹرائیڈ کے مطابق مہنگائی میں اضافے کی ذمہ دار حکومت ہے۔
بینک اف انگلینڈ نے بتایا کہ ستمبر تک مہنگائی کی شرح 4 فیصد تک جاسکتی ہے، پھر اس میں کمی آنے کا امکان ہے۔
بینک آف انگلینڈ کا ہدف مہنگائی کو 2 فیصد تک رکھنا ہے۔



