انٹرنیشنل

کراچی سے بھی بڑا برفانی تودہ 40 سال کے سفر کے بعد آخرکار ختم ہونے کے قریب

انٹار کٹیکا سے آزاد ہوکر پانی میں بہنے کے بعد دنیا کا سب سے بڑا برفانی تودہ آخرکار ٹوٹنے لگا ہے۔

اے 23 اے نامی یہ برفانی تودہ دنیا کا سب سے قدیم اور سب سے بڑا تودہ قرار دیا جاتا ہے اور امکان ہے کہ چند ہفتوں میں یہ مکمل طور پر غائب ہو جائے گا۔

اے 23 اے نامی یہ برفانی تودہ 1986 میں انٹار کٹیکا کے ساحلی علاقے سے الگ ہوکر بحیرہ ودل کی تہہ میں رک کر ایک برفانی جزیرے کی شکل اختیار کر گیا تھا۔

اس تودے کا حجم لگ بھگ 4 دہائیوں تک 1500 اسکوائر میل رہا اور وزن ایک ہزار ارب ٹن تھا۔

درحقیقت رقبے کے لحاظ سے یہ کراچی سے بھی کچھ بڑا تھا۔

خیال رہے کہ کراچی کا رقبہ 1360 اسکوائر میل ہے۔

1986 میں انٹار کٹیکا سے الگ ہونے کے بعد برسوں تک یہ تودہ ایک جگہ رکا رہا مگر 2020 میں اپنی جگہ سے آگے بڑھ کر بتدریج South Orkney Islands تک پہنچ گیا۔

مگر پھر کئی مہینوں تک یہ برفانی تودہ ایک ہی جگہ پر سست روی سے گھومتا رہا اور دسمبر 2024 میں اس نے ایک بار پھر اپنا سفر شروع کیا تھا۔

مارچ 2025 میں یہ جنوبی بحر اوقیانوس میں ساؤتھ جارجیا نامی جزیرے کے قریب پھنس گیا تھا۔

جمے ہوئے تازہ پانی پر مشتمل یہ تودہ اتنا بڑا تھا کہ سائنسدانوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس کے باعث جنوبی جارجیا میں موجود لاکھوں پینگوئنز اور دیگر سمندری حیات کی بقا کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔

مگر مئی میں وہ وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہوگیا اور اب گرم پانیوں میں بہت تیزی سے پگھل رہا ہے۔

اب اس کا حجم بھی 50 فیصد سے زیادہ گھٹ چکا ہے مگر اب بھی وہ 683 اسکوائر میل پر پھیلا ہوا ہے۔

حالیہ ہفتوں میں اس تودے سے برف کے بہت بڑے بڑے ٹکڑے (400 اسکوائر کلومیٹر بڑے) ٹوٹ کر الگ ہوگئے اور ان میں سے بیشتر کو بحری جہازوں کے لیے خطرہ قرار دیا جا رہا ہے۔

برٹش انٹارکٹک سروے (بی اے ایس) کے اوشین گرافر اینڈریو مائیجرز نے بتایا کہ یہ شمال کی جانب بہتے ہوئے ڈرامائی انداز سے ٹوٹ رہا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ‘میرا تو کہنا ہے کہ یہ اپنے اختتام کی جانب بڑھ رہا ہے، یہاں پانی اتنا گرم ہے کہ وہ خود کو برقرار نہیں رکھ سکتا اور مسلسل پگھل رہا ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘مجھے توقع ہے کہ یہ آئندہ چند ہفتوں تک اپنا سفر جاری رکھے گا مگر پھر قابل شناخت نہیں رہے گا’۔

اینڈریو مائیجرز کے مطابق سائنسدان اب بھی حیران ہیں کہ آخر یہ تودہ اتنے طویل عرصے تک خود کو برقرار رکھنے میں کامیاب کیسے رہا۔

انہوں نے کہا کہ ‘بیشتر برفانی تودے اتنے عرصے تک برقرار نہیں رہتے، مگر یہ اتنا بڑا تودہ بہت زیادہ وقت تک اپنے حجم کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہا اور دیگر تودوں سے زیادہ فاصلے تک سفر بھی کرچکا ہے’۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker