پاکستانانٹرنیشنل

جرمنی کو پاکستانی ہنر مند چاہئیں: قونصل جنرل ڈاکٹر لوٹز

کراچی : جرمنی کے قونصل جنرل ڈاکٹرروڈیگر لوٹز نے کہا ہے کہ ان کے ملک کو پاکستانی نوجوان ہنرمندوں کی ضرورت ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی تعلقات کو مزید وسعت دی جائے گی۔

جرمن قونصل جنرل نے یہ بات اپنے اعزاز میں گورنرہاؤس کراچی میں منعقد الوادعیہ سے خطاب میں کہی۔یہ تقریب اپنی نوعیت کی نئی روایت تھی۔

گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے اس موقع پرمیڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جرمنی اور پاکستان کے درمیان انتہائی مضبوط اقتصادی تعلقات ہیں اور ان کی جانب سے یہ الوادعیہ قونصل جنرل ڈاکٹرروڈیگر لوٹز کی اس ضمن میں کاوشوں کا اعتراف ہے۔یہ اس بات کی علامت بھی ہے کہ پاکستانی شہری اپنے مہمان سفارتکاروں کی کس قدر عزت و تکریم کرتے ہیں۔

تقریب میں متحدہ عرب امارات، قطر، سعودی عرب، ترکیہ، ایران،عراق، عمان، بنگلادیش، سری لنکا،ملائیشیا، آئیوری کوسٹ کے قونصل جنرلز،صف اول کے کاروباری حضرات، ہندو، سکھ، مسیحی برادری کے نمائندے اور سیاسی وسماجی شخصیات بھی موجود تھیں۔

پاکستان کے قومی لباس میں ملبوس جرمن قونصل جنرل نے گورنرسندھ سے خصوصی اظہار تشکر کیا اور کہا کہ کامران ٹیسوری کھلے دل کے مالک شخص ہیں، جنہوں نے ان کے لیے ایسی یادگار تقریب کا اہتمام کیا۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے قونصل جنرل ڈاکٹر لوٹز نے کہا کہ 3 برس پہلے جب انہیں کراچی میں قونصل جنرل تعینات کیا جارہا تھا تو انہوں نے اپنے 2 پیشرو قونصل جنرلز سے کراچی پوسٹنگ کے تجربات جاننے کی کوشش کی۔

ڈاکٹرلوٹز نے کہا کہ دونوں سابق قونصل جنرلز نے کہا کہ کراچی میں تعیناتی ان کی زندگی کا سب سے بہترین تجربہ تھا جس پروہ کچھ تذبذب کا شکار ہوئے کہ کہیں یہ باتیں انہیں خوشی خوشی یہ پوسٹنگ قبول کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش تو نہیں تاہم 3 برس یہاں قیام کے بعد وہ اس نتیجہ پرپہنچے ہیں کہ دونوں قونصل جنرلز نے حقیقت کا اظہار کیا تھا۔

ڈاکٹر لوٹز نے کہا کہ کراچی کے لوگوں میں بے انتہا گرمجوشی ہے اور ان میں میزبانی کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے۔ تقریبات میں مدعو ہونا اور سرکاری مصروفیات اپنی جگہ دیگر ممالک میں عوام سے رابطے ہونے میں بہت وقت لگتا ہے مگر کراچی میں پہلے دن سے ہی ذاتی تعلق کا جو سلسلہ شروع ہوا وہ اب بھی جاری ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے دوستوں سے ملنے کراچی ضرور آئیں گے۔

سکبدوش قونصل جنرل نے کہا کہ وہ اب بنگلادیش میں جرمنی کے سفیر کی حیثیت سے چارج سنبھالیں گے تاہم انہیں اس بات پر خوشی ہے کہ وہ اسی خطے میں رہیں گے۔

ڈاکٹر لوٹز نے کہا کہ پاکستان اور جرمنی کے درمیان تجارت بڑھانے کے کئی مواقع ہیں، ٹیکسٹائل سیکٹر میں بھی دوطرفہ تجارت کو فروغ دیا جاسکتا ہے اور مختلف النوع اشیا کی تجارت کے بھی امکانات ہیں۔ قونصل جنرل نے کہا کہ ساتھ ہی ان کی کوشش ہوگی کہ پاکستان سے جرمنی میں سرمایہ کاری بھی بڑھائی جائے۔

 

جرمن قونصل جنرل نے کہا کہ ان کے ملک کو ہنرمند نوجوانوں کی ضرورت ہے اور اسی وجہ سے یقیناً پاکستانی طلبہ و طالبات کیلئے بھی جرمنی میں زیادہ مواقع پیدا ہوں گے۔

تقریب کے اختتام پربینڈ نے سلامی دی، کئی دھنیں بکھیریں اور کیک کاٹا گیا۔ ابھی تالیوں کی گونج باقی تھی کہ رنگا رنگ آتشبازی کا شاندار مظاہرہ شروع ہوا جو کئی منٹ تک جاری رہا۔ ڈاکٹر لوٹز اس غیر متوقع آتشبازی پر انہتائی پُرمسرت نظرآئے۔

پُرتکلف عشائیہ شروع ہوا ہی تھا کہ لوک رقص نے مہمان خصوصی سمیت ہر شخص کی توجہ اپنی جانب مبزول کرلی۔

محض اتفاق ہے کہ اس الوادعیہ کے وقت کراچی میں ایک اور سفارتی تقریب بھی جاری تھی تاہم گورنر ہاؤس میں آخری لمحات تک قونصل جنرلز سمیت تمام شخصیات اس رنگارنگ محفل سے لطف اندوز ہوتی رہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker