
کوئٹہ: انٹرنیٹ ڈیٹا سروس کی بحالی کے تمام دعوے بے سود ثابت ہوئے۔ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کی یقین دہانی اور بلوچستان ہائیکورٹ کا انٹرنیٹ بحالی کا حکم بھی بے اثر رہا۔
15 اگست کو انٹرنیٹ سروس بحال کرنے کا ڈپٹی کمشنر کا اعلان محض الفاظ تک محدود رہا اور مقررہ تاریخ گزرنے کے باوجود انٹرنیٹ بحال نہ ہو سکا۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ بندش کے باعث طلبہ کے تعلیمی امور، آن لائن کاروبار اور دیگر ضروری معاملات بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ بلوچستان حکومت اور ضلعی انتظامیہ فوری طور پر انٹرنیٹ سروس بحال کرے تاکہ عوام کو اذیت سے نجات مل سکے۔



