نوبیل انعام برائے معاشیات 3 ماہرین کو دینے کا اعلان

سال 2025 کا نوبیل انعام برائے معاشیات 3 معاشی ماہرین کو کو دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔
امریکا کی نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے جوئیل موکیر، براؤن یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے پیٹر ہاؤاٹ اور فرانس کے کالج آف فرانس سے تعلق رکھنے والے فلپی اگیون کو رواں سال کا آخری نوبیل انعام دینے کا اعلان کیا گیا۔
ان تینوں کو یہ اعزاز ٹیکنالوجیکل تنوع سے معاشی شرح نمو میں اضافے پر کیے جانے والے کام پر دیا گیا۔
نوبیل انعام کے ساتھ دیے جانے والا 12 لاکھ ڈالرز کا نقد انعام تینوں میں تقسیم کیا جائے گا۔
ان تینوں کی پیدائش امریکا سے باہر ہوئی تھی مگر سب نے امریکی یونیورسٹیوں سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔
جوئیل موکیر نے یہ نظریہ پیش کیا تھا کہ کس طرح ٹیکنالوجیکل تبدیلی اور بہتری نے گزشتہ 2 صدیوں کے دوران معاشی ترقی میں مدد فراہم کی اور طرز زندگی کا معیار بڑھایا۔
پیٹر ہاؤاٹ اور فلپی اگیون نے یہ نظریہ پیش کیا کہ کس طرح ایک ٹیکنالوجی میں پیشرفت نے دوسری ٹیکنالوجی کے لیے جگہ بنائی، تو ایک نسل کے لیے جو پیشرفت تھی وہ دوسری نسل کے لیے متروک بن گئی۔
فزکس، کیمسٹری، میڈیسن، ادب اور امن کے نوبیل انعامات کے برعکس اس انعام کو باضابطہ طور پر Sveriges Riksbank پرائز کہا جاتا ہے، کیونکہ اس کا آغاز 1968 میں سویڈش مرکزی بینک نے کیا۔
اس سال دیا جانے والا انعام مجموعی طور پر 57 واں نوبیل انعام ہے۔
واضح رہے کہ رواں سال نوبیل انعام دینے کا سلسلہ 6 اکتوبر کو شروع ہوا تھا۔
6 اکتوبر 2025 کو نوبیل کمیٹی نے مدافعتی نظام کے افعال کی دریافت پر کام کرنے والے 3 سائنسدانوں کو طب کا نوبیل انعام دینے کا اعلان کیا تھا۔
اسی طرح 7 اکتوبر کو فزکس کا نوبیل انعام جان کلارک، مشیل ایچ ڈیوریٹ اور جان ایم مارٹینس کےنام رہا۔
ان تینوں کو یہ اعزاز مائیکرو اسکوپک کوانٹم مکینیکل ٹنلنگ اور الیکٹرک سرکٹ کی توانائی کے کوانٹائزیشن کی دریافت پر دیا گیا۔
8 اکتوبر کو کیمسٹری کا نوبیل انعام آسٹریلیا کی میلبرن یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے رچرڈ رابنسن، جاپان کی کیوٹو یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے سوسومو کیٹاگاوا اور امریکا کی کیلیفورنیا یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے اردنی نژاد عمر یاگل کو یہ اعزاز میٹل آرگینک فریم ورک پر کیے جانے والے کام پر دیا گیا۔
9 اکتوبر کو ادب کا نوبیل انعام ہنگری سے تعلق رکھنے والے مصنف لازلو کرسز ناہور کائی کو دینے کا اعلان کیا گیا۔
اسی طرح 10 اکتوبر کو امن کا نوبیل انعام وینزویلا سے تعلق رکھنے والی ماریا کورینا ماچاڈو کے نام رہا۔
نوبیل کمیٹی نے اپنے بیان میں کہا کہ ان تینوں نے ہمیں یہ یاد دہانی کرائی کہ گزشتہ 200 برسوں کے دوران دنیا نے انسانی تاریخ میں سب سے زیادہ معاشی ترقی کو دیکھا، اس ترقی سے معیار زندگی بہتر ہوا۔
فلپی اگیون نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی تجارتی پالیسیاں دنیا کے آگے بڑھنے کے عمل میں رکاوٹ بن سکتی ہیں۔
انہوں نے یہ بھی زور دیا کہ معاشی ترقی کے ساتھ ماحولیاتی تحفظ کو بھی یقینی بنایا جائے جبکہ آرٹی فیشل انٹیلی جنس کے شعبے میں مسابقت کو فروغ دیا جائے۔



