بےنظیرانکم سپورٹ پروگرام کی رقم اب براہ راست خواتین کے بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی جائےگی

چئیرپرسن بی آئی ایس پی سینیٹر روبینہ خالد نے کہا ہے کہ بےنظیرانکم سپورٹ پروگرام کی رقم اب براہ راست خواتین کے بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی جائےگی ، خواتین اب گھر بیٹھےمالی مدد حاصل کرسکیں گی۔ تفصیلات کے مطابق چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سینیٹر روبینہ خالد نے بی آئی ایس پی سینٹرل زونل آفس پنجاب کا دورہ کیا۔
چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سینیٹر روبینہ خالد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس دورے کا مقصد بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے مختلف منصوبوں کے حوالے سے بریفنگ دینی تھی۔ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا ایک احسن اور انقلابی اقدام تھا، جس کی بدولت لاکھوں اور کروڑوں مستحق خواتین کو شناخت ملی۔
ملک کے دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں ایسی خواتین بھی موجود تھیں جن کے شناختی کارڈ تک نہیں بنے ہوئے تھے ۔
چئیرپرسن سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ مگر اب بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے ان خواتین کے شناختی کارڈ بنائے گئےجس سے وہ پاکستان کے باقاعدہ شہری ریکارڈ کا حصہ بنیں۔ اس پروگرام کے تحت گھر کی سربراہ خواتین کو مالی معاونت فراہم کی جارہی ہے اس کے ساتھ ساتھ جب کوئی خاتون حاملہ ہوتی ہے تو بچے کی پیدائش سے لے کر دو سال کی عمر تک ماں اور بچے کی مکمل مانیٹرنگ کی جاتی ہے، اس سرپرستی کے نتیجے میں کئی بچوں نے آگے چل کر تعلیمی میدان میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں اور ملک کا نام روشن کیا بیروزگاری ایک بڑا قومی مسئلہ ہے جس کے پیش نظر بے روزگار افراد کے لیے بھی مختلف پروگرامز متعارف کرائے گئے ہیں، تاکہ انہیں معاشی طور پر مستحکم بنایا جا سکے ماضی میں لوگ ساری زندگی بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے مستفید ہوتے رہتے تھے۔
تاہم اب اس میں تین سالہ نظام متعارف کرایا گیا ہےہر تین سال بعد مستحقین کی مانیٹرنگ کی جاتی ہے، اور جو افراد اس مدت کے بعد پروگرام کے اہل نہیں رہتے ۔ انہیں نکال کر ان افراد کو شامل کیا جاتا ہے جو واقعی مدد کے مستحق ہوتے ہیں۔ چئیرپرسن سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت دی جانے والی مالی معاونت کو اب ڈیجیٹل کیا جا رہا ہے۔



