Sind

کراچی میں بارش کے باعث مختلف حادثات سے اموات کی تعداد 12 ہوگئی

کراچی میں گزشتہ  روز  سے  وقفے  وقفے سے ہونے والی بارش کے باعث مختلف حادثات سے اموات کی تعداد 15 ہوگئی ہے۔

کراچی میں کل کی سیلابی صورتحال کے اثرات آج بھی شہر کی سڑکوں پر خراب گاڑیاں اورگڑھوں کی صورت نظر آرہے ہیں۔

محکمہ موسمیات کے مطابق گلشن حدید  میں پچھلے 24 گھنٹے میں 178 ملی میٹر  اور یونیورسٹی روڈ پر 145 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔

 

کل کی سیلابی صورتحال کے بعد اہم شاہراہوں سے پانی کی نکاسی کا سلسلہ جاری ہے،۔کارساز، ملیر ہالٹ اور دیگر مقامات پر خراب گاڑیاں سڑکوں پر موجود ہیں۔ اولڈ سٹی ایریا، آرام باغ، سندھ ہائی کورٹ، لیاقت آباد، یونیورسٹی روڈ سمیت دیگر علاقوں میں برساتی پانی جمع ہے۔

بارش کے باعث مختلف حادثات میں بچے اور خاتون سمیت 15 افراد جاں بحق ہوئے۔

پولیس کے مطابق پی ای سی ایچ ایس میں مکان میں جمع پانی سے معمر شخص کی لاش ملی ہے، 70 سال کا معذور شخص گھر میں اکیلا رہتا تھا، ابتدائی معلومات کے مطابق معمر شخص بستر سے نیچے پانی میں گرا۔

ذرائع کے مطابق شہر کے 2000 فیڈرز بحال ہیں۔، کے الیکٹرک کے 240 فیڈرز تاحال بند ہونے سے بجلی کی فراہمی معطل ہے۔گلستان جوہر، سلطان آباد، نارتھ ناظم آباد، ملیر، معین آباد، کورنگی، اورنگی ٹاؤن، لیاقت آباد، گڈاپ، بن قاسم، سرجانی، پی ای سی ایچ ایس، گلشن اقبال اور ڈی ایچ اے میں 20 گھنٹے سے بجلی کی فراہمی معطل ہے۔

دوسری جانب بارش کو رکے کئی گھنٹے گزر جانے کے باوجود پروازوں کا شیڈول معمول پر نہیں آسکا، ملکی اور بین الاقوامی پروازوں کا شیڈول بڑی طرح متاثر ہے۔جناح ٹرمینل سے آپریٹ ہونے والی متعدد اندرون ملک پروازیں منسوخ کردی گئیں۔ائیرپورٹ پر تعینات پی اے اے اور ائیرلائنز عملے کی بڑی تعداد ڈیوٹی پر نہیں پہنچ سکی۔

شہر میں بارشوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ نے آج کراچی کی عدالتوں میں چھٹی کا اعلان کیا  تھا۔ سندھ ہائی کورٹ، کراچی پرنسپل سیٹ اور ماتحت عدالتیں آج بند رہیں۔

مون سون ہوائیں خلیج بنگال اور بحیرہ عرب سے ملک کے جنوبی حصے پر اثر انداز ہیں اور ان ہواؤں کے زیر اثر  آج  مزید جب کہ کل بھی گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے،کہیں کہیں تیز موسلا دھار بارش بھی ہوسکتی ہے، اربن فلڈنگ اور نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے کا خدشہ بھی ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker