سائنس اور ٹیکنالوجی

2 سال تک اسپیس ایکس میں کام کرنے والا 16 سالہ بچہ مزید بہتر ملازمت حاصل کرنے میں کامیاب

محض 16 سال کی عمر میں کائران قاضی نے وہ کامیابیاں حاصل کرلی ہیں جو بیشتر سافٹ وئیر انجینئرز دہائیوں میں حاصل کرتے ہیں۔

اس نے بہت کم عمری میں کالج سے گریجویشن مکمل کی، اسپیس ایکس میں سافٹ وئیر انجینئر کے طور پر کام کرکے اسٹار لنک سٹیلائیٹس کے سافٹ وئیر ڈیزائن کرنے میں مدد فراہم کی جبکہ امریکا کی اہم آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) لیبز میں کام کرنے کی پیشکشوں کو مسترد کیا۔

اب یہ غیر معمولی ذہانت رکھنے والا بنگلا دیشی نژاد امریکی بچہ زندگی کے نئے سفر کا آغاز کر رہا ہے۔

مگر امریکا کی سیلیکون ویلی کی بجائے وال اسٹریٹ میں، کیونکہ اس نے Citadel سکیورٹیز نامی کمپنی کو کوانٹ ڈویلپر کے طور پر جوائن کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

جولائی 2023 میں ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس نے کائران قاضی کو سافٹ انجینئر کی ملازمت دی تھی۔

اسی سال جون میں اس نے امریکی ریاست کیلیفورنیا کی سانتا کلارا یونیورسٹی کے اسکول آف انجینئرنگ سے گریجویشن ڈگری حاصل کی تھی۔

وہ اس یونیورسٹی کی 172 سالہ تاریخ کا کم عمر ترین گریجویٹ قرار پایا تھا۔

زندگی کا غیرمعمولی سفر

کائران قاضی کے گھر والوں کو بچے کی ذہانت کا اندازہ اس وقت ہوا جب وہ محض 2 سال کی عمر میں مکمل جملے بولنے لگا تھا۔

اسکول جانے کے بعد وہ اساتذہ سے کہانیوں پر بات کرنے کے قابل ہوگیا تھا جبکہ تیسری جماعت میں اسے اسکول کا کام بہت آسان لگنے لگا، جس کے بعد اساتذہ، والدین اور ڈاکٹروں کو اندازہ ہوا کہ عام تعلیم بچے کی سیکھنے کی زبردست صلاحیت کو متاثر کرسکتی ہے۔

کائران قاضی کو 9 سال کی عمر میں ایک کمیونٹی کالج میں داخل کرایا گیا جس کے 2 سال بعد 11 سال کی عمر میں اسے سانتا کلارا یونیورسٹی منتقل کر دیا گیا، جہاں اس نے کمپیوٹر سائنس اور انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی۔

تعلیمی سرگرمیوں کے ساتھ کائران قاضی نے ٹیکنالوجی کمپنی انٹیل کی ریسرچ لیب میں آرٹی فیشل انٹیلی جنس ٹیکنالوجی پر بھی کام کیا۔

2023 میں وہ میڈیا کی توجہ کا مرکز اس وقت بنا جب ایلون مسک کی کمپنی نے 14 سالہ بچے کو ملازمت پر رکھ لیا۔

اس موقع پر کائران قاضی نے اسپیس ایکس کو ایک ‘نایاب کمپنی’ قرار دیا تھا جس نے اس کی عمر کی بجائے صلاحیت کو اہمیت دی۔

اسی سال کائران قاضی نے لنکڈ ان پر شدید تنقید کی تھی کیونکہ اس پلیٹ فارم نے 16 سال سے کم عمر ہونے پر اس کا اکاؤنٹ لاک کر دیا تھا۔

جب کائران قاضی کو دوبارہ اس پلیٹ فارم پر آنے کا موقع ملا تو اس نے ایک کمنٹ میں روایتی اسکول سسٹم پر تنقید کی۔

اس کا کہنا تھا کہ امتحانات کو کسی فرد کی مہارت جانچنے کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے بلکہ صلاحیت کو آزمانا چاہیے۔

اس کا کہنا تھا کہ عمر، مراعات اور لاشعوری تعصبات سے مواقع محدود ہو جاتے ہیں۔

اسپیس ایکس میں 2 سال کام کرنے کے بعد اب کائران قاضی مختلف شعبے میں قدم رکھ رہا ہے اور اے آئی کمپنیوں کی پیشکشوں کو ٹھکرا کر نیویارک کی مالیاتی کمپنی کا حصہ بن رہا ہے۔

کائران قاضی کے مطابق کوانٹ فنانس کی پیشکش پیچیدگی اور ذہانت کے چیلنجز کا دلچسپ امتزاج ہے جس میں اے آئی تحقیق بھی کی جاسکتی ہے اور وہ بھی زیادہ تیز رفتاری سے۔

کائران کی والدہ بھی وال اسٹریٹ میں انویسٹمنٹ بینکر کے طور پر کام کرتی ہیں جس سے بھی اسے مالیاتی امور کو جاننے کا موقع ملا۔

اسپیس ایکس میں ملازمت کے دوران کائران قاضی کو ان کی والدہ گاڑی میں دفتر چھوڑتی تھیں مگر اب نیویارک میں وہ خود اپنے دفتر جایا کرے گا۔

اسے ویڈیو گیمز کھیلنا پسند ہے جبکہ فارغ وقت میں مطالعہ بھی کرتا ہے۔

کچھ عرصے پہلے ایک انٹرویو میں اس نے بتایا تھا کہ ‘ایسا کچھ بھی نہیں جس کو دیکھ کر ایسا لگے کہ وہ کچھ مختلف ہے، مگر میں زندگی سے لطف اندوز ہو رہا ہوں اور میں نے متعدد قریبی دوست بنائے ہیں’۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker