مریخ پر قدیم زندگی کی تلاش کے حوالے سے اہم پیشرفت

سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ مریخ کی ایک چٹان کے نمونوں پر موجود تیندوے جیسے نشانات ممکنہ طور پر اس سیارے پر زمانہ قدیم میں پائی جانے والی زندگی کے آثار ہوسکتے ہیں۔
امریکی خلائی ادارے ناسا کے Perseverance روور نے ان نمونوں کو 2024 میں اکھٹا کیا تھا اور اب اس حوالے سے ایک تحقیق کے نتائج جرنل نیچر میں شائع ہوئے ہیں۔
ناسا کے قائم مقام ایڈمنسٹریٹر سین ڈفی نے بتایا کہ ایک سال کی تحقیق کے بعد سائنسدانوں کے تجزیے میں مریخ پر زندگی کی موجودگی کی ممکنہ واضح ترین نشانیوں کو دریافت کیا گیا ہے۔
ان نمونوں کو Sapphire Canyon کا نام دیا گیا ہے جن کو ناسا کے روور نے مریخ کی Neretva allis ریور ویلی سے اکٹھا کیا تھا۔
اس خطے کے بارے میں اندازہ لگایا جاتا ہے کہ اربوں سال قبل یہاں پانی بہتا ہوگا۔
ناسا کا روور 2021 میں اسی کے قریب ایک گڑھے میں لینڈ ہوا تھا تاکہ مریخ کی قدیم جھیل کے مقام کی جانچ پڑتال کرسکے۔
روور نے اس مقام پر ڈرل کرکے جولائی 2024 میں چٹانوں کے نمونے اکٹھے کیے تھے۔
اگرچہ یہ نمونے سائنسدانوں کی پہنچ سے لاکھوں میل دور ہیں مگر ان کا ماننا ہے کہ ان سے یہ علم ہوسکے گا کہ مریخ پر کبھی جراثیمی زندگی موجود تھی یا نہیں۔
Perseverance پراجیکٹ سے جڑی سائنسدان کیٹی سٹیک مورگن نے بتایا کہ ممکنہ جراثیمی زندگی کی دریافت کے حوالے سے مزید کام کرنے کی ضرورت تھی تاکہ حیاتیاتی ماخذ کی تصدیق ہوسکے، جو اب ہم برسوں کی سخت محنت کے بعد شیئر کر رہے ہیں۔
اس چٹان کی دریافت کے فوری بعد روور کے پراجیکٹ سے جڑے ماہرین نے کہا تھا کہ وہ اسی طرح کی چٹان کو تلاش کرنے کی توقع کر رہے تھے۔
ناسا نے اس دریافت کے بارے میں ابتدائی اعلان جولائی 2024 میں کیا تھا۔
اب اس حوالے سے نئی تحقیق کو مزید ڈیٹا اکٹھا کرکے مکمل کیا گیا ہے۔
محققین نے بتایا کہ توقع ہے کہ بتدریج ہم ان نمونوں کو زمین پر لانے میں کامیاب ہو جائیں گے اور لیبارٹری میں اس پر تحقیق کریں گے۔
ان نمونوں کو دریافت کرنے کے بعد سے ناسا کا روور اس دریائی وادی کا سروے کر رہا ہے تاکہ وہاں کے ماحول کو بہتر طریقے سے سمجھ سکے جہاں یہ چٹانیں موجود ہیں اور یہ تعین کرسکے کہ تیندوے جیسے نشانات ان پر کیسے بنے۔
محققین کے مطابق ان نشانات کو سمجھنے پر ہم مریخ پر جراثیمی زندگی کی موجودگی کا تعین کرسکیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اب ہم اس سوال کا جوب دینے کے قریب ہیں کہ کیا زمین سے باہر کبھی زندگی کا وجود تھا یا نہیں۔
اس تحقیق کے لیے ماہرین نے چٹانوں کی تشکیل کے حوالے سے 2 ممکنہ منظرناموں کو مدنظر رکھا۔
ایسا ممکن ہے کہ چٹانوں پر یہ نشانات جغرافیاتی وجوہات کے باعث بنے ہوں مگر ابھی تک اس حوالے سے شواہد نہیں مل سکے۔
مگر محققین نے تسلیم کیا کہ ایسی کئی چیزیں ہیں جن کے باعث اس طرح کے نشانات بن سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمیں زمین پر اس حوالے سے اضافی تحقیق کرنا ہوگی تاکہ واضح تصدیق ہوسکے کہ یہ نشانات جراثیمی زندگی کی وجہ سے بنے ہیں یا اس پیچھے کوئی اور وجہ چھپی ہے۔



