سائنس اور ٹیکنالوجی

امریکا میں ٹک ٹاک کا نیا مالک کون ہوگا؟ ممکنہ نام سامنے آگئے

ٹک ٹاک کو پابندی سے بچانے کے لیے امریکی کمپنیاں اور پرائیویٹ equity فنڈز باہم ملکر ایک نئی امریکی کمپنی تشکیل دیں گے جو اس ویڈیو شیئرنگ ایپ کو امریکا میں چلائے گی۔

یہ دعویٰ امریکی میڈیا ادارے سی این این کی ایک رپورٹ میں کیا گیا۔

خیال رہے کہ گزشتہ دنوں اسپین کے شہر میڈرڈ میں امریکا اور چین کے درمیان امریکی سرزمین میں ٹک ٹاک کی فروخت کے حوالے سے ایک فریم ورک پر اتفاق ہوگیا تھا۔

اس فریم ورک کے بارے میں تفصیلات تو سامنے نہیں آئیں بلکہ اس کا باضابطہ اعلان 19 ستمبر کو امریکی و چینی صدور کے درمیان بات چیت کے بعد متوقع ہے۔

مگر سی این این کی رپورٹ میں ٹک ٹاک کی امریکی شاخ کو خریدنے والے ناموں کے بارے میں بتایا گیا۔

رپورٹ کے مطابق امریکی سرمایہ کار ٹک ٹاک کے 80 فیصد حصے کے مالک ہوں گے جبکہ باقی ملکیت بدستور چینی کمپنی بائیٹ ڈانس کے پاس رہے گی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ امریکا میں اوریکل، Andreessen Horowitz اور سلور لیک باہم مل کر ایک نئی امریکی کمپنی کے تحت ٹک ٹاک کے 80 فیصد حصے کو خریدیں گے۔

وال اسٹریٹ جرنل نے سب سے پہلے فریم ورک کے بارے میں تفصیلات کو رپورٹ کیا تھا۔

ذرائع کے مطابق فریم ورک پر ابھی بھی بات چیت جاری ہے اور اس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی ہم منصب شی جن پنگ کے درمیان 19 ستمبر کو ٹیلیفونک بات چیت میں مزید تبدیلیاں ہوسکتی ہیں۔

وائٹ ہاؤس کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے سی این این کو بتایا کہ ‘ابھی ٹک ٹاک فریم ورک کے حوالے سے کوئی بھی تفصیل قیاس آرائی ہوگی’۔

اوریکل کے چیئرمین لیری ایلیسن بھی ممکنہ طور پر ٹک ٹاک کے امریکی اثاثوں کی فروخت کے حوالے سے بات چیت میں شامل ہیں۔

امریکی صدر نے جنوری 2025 میں کہا تھا کہ وہ ویڈیو شیئرنگ ایپ کے امریکی اثاثوں کو خریدنے کے حوالے سے لیری ایلیسن کی حمایت کریں گے۔

اوریکل اور ٹک ٹاک کے درمیان پہلے ہی تعلق موجود ہے۔

2020 میں اوریکل نے ٹک ٹاک کے امریکی ڈیٹا کی ہوسٹنگ شروع کی تھی اور ڈونلڈ ٹرمپ کے اولین عہد صدارت کے دوران ٹک ٹاک کو خریدنے کے ایک معاہدے پر بھی اتفاق کیا تھا، مگر پھر اس معاہدے کو بلاک کر دیا گیا۔

ابھی جب امریکا میں ٹک ٹاک کی فروخت کا معاہدہ باضابطہ طور پر طے نہیں پایا، اس دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے ٹک ٹاک پر پابندی کو مزید 3 ماہ کے لیے روک دیا ہے۔

اگر یہ ایگزیکٹو آرڈر جاری نہ کیا جاتا تو 17 ستمبر کو امریکا میں ٹک ٹاک پر پابندی عائد ہو جاتی۔

15 ستمبر کو میڈرڈ میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے بتایا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان امریکا کے کنٹرول میں ٹک ٹاک کی ملکیت کے حوالے سے ایک فریم ورک طے پاگیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے ٹک ٹاک کی ملکیت کے حوالے سے فریم ورک پر اتفاق کرلیا ہے، مگر ہم معاہدے کی کمرشل شرائط پر بات نہیں کریں گے کیونکہ یہ 2 نجی فریقین کے درمیان ہے، بس یہ بتا سکتے ہیں کہ کمرشل شرائط پر اتفاق ہوگیا ہے۔

16 ستمبر کو انہوں نے مزید بتایا کہ چین نے اس وقت معاہدے پر آمادگی ظاہر کی جب صدر ٹرمپ نے انتباہ کیا تھا کہ اس بار امریکا میں ٹک ٹاک پر پابندی عائد کر دی جائے گی۔

اسکاسٹ بیسنٹ نے بتایا کہ ہم اس معاہدے کے لیے قومی سلامتی کو نظر انداز نہیں کریں گے بلکہ اسے یقینی بنانا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ معاہدے کی شرائط اور سرمایہ کاروں کے ناموں کو آئندہ چند دنوں یا ہفتوں میں جاری کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ امریکا کی جانب سے ٹک ٹاک کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا جاتا ہے کیونکہ یہ چینی کمپنی بائیٹ ڈانس کے زیرتحت ہے۔

اپریل 2024 میں اس وقت کے امریکی صدر جو بائیڈن نے ایک قانون پر دستخط کیے تھے جس کے تحت بائیٹ ڈانس کو 9 ماہ میں امریکا میں ٹک ٹاک فروخت کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔

مگر ڈونلڈ ٹرمپ نے دوسری بار عہدہ صدارت سنبھالنے کے بعد اس ڈیڈلائن میں کئی بار توسیع کی۔

ٹک ٹاک کی ملکیت کا تنازع 2020 میں شروع ہوا تھا جب ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پہلے دور صدارت کے دوران بائیٹ ڈانس کو ٹک ٹاک کو فروخت کرنے یا ایسا نہ کرنے پر ایپ کی بندش کا انتباہ کیا تھا۔

متعدد امریکی کمپنیاں جیسے مائیکرو سافٹ، اوریکل اور دیگر نے امریکا میں ٹک ٹاک آپریشنز کو خریدنے میں دلچسپی ظاہر کی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker