سائنس اور ٹیکنالوجی

امریکی پابندیوں کا جواب دینے کیلئے چینی کمپنی نے اپنی طاقتور اے آئی چپ تیار کرلی

چین کی ایک کمپنی نے نئے کمپیوٹنگ سسٹمز متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے جو آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ٹیکنالوجی پر کام کریں گے اور ایسا مقامی ساختہ چپس کی مدد سے ہوگا۔

خیال رہے کہ 2022 میں اس وقت کے امریکی صدر جو بائیڈن نے چینی کمپنیوں کو چپس کی فروخت کے حوالے سے پابندیاں عائد کیں، جس کا مقصد چین کو اے آئی کے شعبے میں تیزی سے آگے بڑھنے سے روکنا تھا۔

امریکا کی خواہش ہے کہ چین کو اے آئی ماڈلز کو تربیت دینے کے لیے جدید ترین سیمی کنڈکٹرز تک رسائی حاصل نہ ہو۔

ان حالات پر قابو پانے کے لیے چینی کمپنیوں نے زیادہ تعداد میں کم مؤثر چینی ساختہ چپس کو اکٹھا کرکے استعمال کرنا شروع کیا۔

اس کے بعد اینوڈیا نامی کمپنی نے چین کے لیے مخصوص چپس تیار کرنا شروع کیں مگر اب چین نے مقامی کمپنیوں کو انہیں خریدنے سے روک دیا ہے۔

ان حالات میں چینی کمپنی ہواوے نے اٹلس 950 سپر کلسٹر کو متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے۔

کمپنی نے کمپیوٹنگ سسٹمز کے لیے مقامی طور پر چپس تیار کی ہیں جو اگلے سال دستیاب ہوگی۔

کمپنی نے اعلان کیا کہ وہ 2028 کے آخر تک Ascend چپس کے 3 نئے ورژنز متعارف کرائے گی اور ہر سال ان کی صلاحیت میں دوگنا اضافہ کیا جائے گا۔

یہ چپس کمپنی کے اے آئی کمپیوٹنگ انفرا اسٹرکچر کا دل ہیں جو متعدد سپر پوڈز سے منسلک ہے۔

یہ سپر پوڈز متعدد سپر نوڈز پر مشتمل ہیں اور یہ سپر نوڈز  Ascend چپس سے لیس ہیں اور اس کا مقصد امریکی پابندیوں کے باعث درپیش مشکلات پر قابو پانا ہے۔

کمپنی نے بتایا کہ اس کا نیا اٹلس 950 سپر نوڈ 8192 چپس پر مشتمل ہے اور اٹلس 950 سپر کلسٹر کے لیے 5 لاکھ سے زائد چپس استعمال کی گئی ہیں۔

زیادہ جدید اٹلس 960 ورژن 2027 میں متعارف کرائے جانے کا امکان ہے، جس میں ہر نوڈ کے لیے 15488 چپس کو استعمال کیا جائے گا۔

یہ ابھی واضح نہیں کہ اینوڈیا چپس پر کام کرنے والے سسٹمز کے مقابلے میں یہ سسٹمز کس حد تک بہتر ہیں۔

البتہ کمپنی کی جانب سے جاری بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ ان نئے سپر نوڈز سے دنیا کی طاقتور ترین کمپیوٹنگ پاور ملے گی۔

بیان کے مطابق اٹلس 950 سپر نوڈز اینوڈیا کے این وی ایل 144 سسٹم کے مقابلے میں 6.7 گنا زیادہ کمپیوٹنگ پاور فراہم کرتے ہیں۔

درحقیقت کمپنی کے مطابق اٹلس 950 سپر کلسٹر ایلون مسک کی کمپنی ایکس اے آئی کے Colossus سپر کمپیوٹر سے 1.3 گنا زیادہ کمپیوٹنگ پاور سے لیس ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker