اے آئی ٹیکنالوجی سے انسانوں پر مرتب ہونے والے اثر کے حوالے سے ایلون مسک کی حیران کن پیشگوئی

ٹیسلا، اسپیس ایکس اور ایکس (ٹوئٹر) جیسی کمپنیوں کے مالک ایلون مسک نے آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ٹیکنالوجی سے انسانوں پر مرتب ہونے والے اثرات کے حوالے سے حیران کن پیشگوئی کی ہے۔
ایکس پر ایک پوسٹ پر ریپلائی کرتے ہوئے ایلون مسک نے پیشگوئی کی کہ بہت جلد اے آئی اور روبوٹس دنیا بھر میں انسانوں کی جگہ ملازمتیں کرنے لگے گے۔
انہوں نے کہا کہ ایسا ہونے پر انسانوں کے لیے کام کرنا ایک آپشن ہوگا، موجودہ عہد کی طرح لازمی نہیں ہوگا۔
انہوں نے ایک مثال دیتے ہوئے کہا کہ مستقبل میں اگر کوئی فرد سبزیاں اگانا چاہتا ہے تو وہ سبزیاں خریدنے کی بجائے اگانے کا کام کرے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ اے آئی اور روبوٹس تمام ملازمتوں میں انسانوں کا متبادل ثابت ہوں گے۔
ایلون مسک نے جس سوشل میڈیا پوسٹ پر ریپلائی کیا تھا، اس میں ایک رپورٹ کو شیئر کیا گیا تھا جس کے مطابق ای کامرس کمپنی ایمازون ہزاروں ورکرز کو روبوٹس سے تبدیل کرنا چاہتی ہے۔
نیویارک ٹائمز کی اس رپورٹ کے مطابق ایمازون کی جانب سے 5 لاکھ ملازمتوں کے لیے روبوٹس کو استعمال کیا جائے گا۔
البتہ کمپنی نے رپورٹ کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ رپورٹ نامکمل ہے اور اس میں مستقبل میں کمپنی کی جانب سے ملازمتوں پر رکھنے کی حکمت عملی کی تمام تفصیلات موجود نہیں۔
ایک الگ انٹرویو کے دوران ایلون مسک نے کہا کہ مستقبل میں اشیا اور خدمات لوگوں کو لگ بھگ مفت دستیاب ہوں گی۔
انہوں نے کہا کہ لوگوں کو اربوں روبوٹس تک رسائی حاصل ہوگی جو ہر کام میں ان کی مدد کریں گے اور انہیں کوئی خرچہ نہیں کرنا پڑے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ اے آئی اور روبوٹس کے حوالے سے پیشرفت سے انسانوں کا معیار زندگی بہتر ہوگا، مگر چیلنج زندگی پر اطمینان کے حوالے سے ہوگا۔
ویسے ایلون مسک اکثر ایسی پیشگوئیاں کرتے رہتے ہیں جو اکثر پوری نہیں ہوتیں۔
2016 میں انہوں نے پیشگوئی کی تھی کہ 2 برسوں کے دوران ٹیسلا گاڑی نیویارک سے لاس اینجلس تک خود ڈرائیونگ کرنے کے قابل ہو جائے گی۔
اسی طرح 2016 میں انہوں نے کہا تھا کہ اسپیس ایکس کا راکٹ 2018 تک مریخ کے لیے روانہ ہو جائے گا اور یہ دونوں ہی پیشگوئیاں درست ثابت نہیں ہوئیں۔



