حیدرآباد: پیر کو ہونیوالی بارش کا پانی اب تک سڑکوں پر جمع، شہری شدید مشکلات کا شکار

حیدرآباد میں موسلادھار بارش کو 30 گھنٹے سے زائد گزرنے کے باوجود شہر کے متعدد علاقوں سے برساتی پانی کی نکاسی نہیں ہو سکی۔
حیدرآباد میں پیر کی شام ہونے والی موسلادھار بارش کا پانی اب تک نہیں نکالا جاسکا، کئی مقامات اب بھی زیرِ آب ہیں۔
ریلوے کالونی، ریلوے اسٹیشن، فتح چوک، مکی شاہ روڈ، کمشنر آفس، ڈی آئی جی و ڈپٹی کمشنر دفاتر، ضلعی سیکرٹریٹ اور نیو کلاتھ مارکیٹ سمیت متعدد علاقے کھڑے پانی کے باعث شہریوں اور مسافروں کے لیے امتحان بنے ہوئے ہیں۔
اسکول، کالجز، سرکاری دفاتر، مارکیٹیں اور نشیبی رہائشی کالونیاں بدستور زیرِ آب ہیں، جس کے باعث شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ سڑکوں پرپانی جمع ہونے سے آمدو رفت معطل اور کاروبار متاثر ہیں، گندے پانی کی بدبو نے جینا دوبھر کر دیا ہے۔
حیسکو کے ترجمان کے مطابق شہر کے 152 فیڈرز میں سے 150 بحال کر دیےگئے ہیں، جب کہ باقی 2 فیڈرز پر کام جاری ہے۔
اُدھر میئر حیدرآباد کاشف شورو کا دعویٰ ہے کہ شہر سے 90 فیصد پانی نکالا جا چکا ہے اور بقیہ 10 فیصد پانی نشیبی علاقوں میں ہیں جہاں نکاسی آب سست روی کا شکار ہے۔
واضح رہے کہ حیدرآباد میں برساتی ہو یا سیوریج کا پانی نکاسی کا انحصار پمپنگ اسٹیشنوں پر ہے۔ مستقل اور مؤثر ڈرینیج سسٹم نہ ہونے کے باعث ہر بارش شہریوں کے لیے دوہری اذیت لے آتی ہے۔



