
ذرائع کے مطابق سیکیورٹی کے یہ سخت انتظامات بلوچستان کے سرکاری ملازمین کی جانب سے ممکنہ احتجاج کے پیشِ نظر کیے گئے ہیں۔
سرکاری ملازمین نے گرینڈ الائنس کے پلیٹ فارم سے 20 جنوری کو ریڈ زون میں دھرنا دینے کا اعلان کر رکھا ہے۔
اس صورتحال میں ایک سنجیدہ سوال جنم لیتا ہے کہ اگر ریڈ زون مکمل طور پر بند ہے تو روزمرہ کے سرکاری امور کیسے انجام پائیں گے۔ وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ، سول سیکرٹریٹ اور گورنر ہاؤس میں کام کرنے والے سرکاری ملازمین کی آمد و رفت اور فرائض کی انجام دہی کس طرح ممکن بنائی جائے گی۔
ریڈ زون کی بندش نہ صرف شہریوں بلکہ خود سرکاری نظام کے لیے بھی مشکلات پیدا کر سکتی ہے، جس پر فوری اور متوازن حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔



