بلوچستان کے عہد ساز شخصیت سابق گورنر بلوچستان سرسرداران سراوان نواب غوث بخش خان رئیسانی اور ان کے رفقاء کی 39 ویں برسی پر کل بروز ہفتہ بعدازنماز ظہر سراوان ہاؤس میں قرآن خوانی ہوگی

بلوچستان کے عہد ساز شخصیت سابق گورنر بلوچستان سرسرداران سراوان نواب غوث بخش خان رئیسانی اور ان کے رفقاء کی 39 ویں برسی پر کل بروز ہفتہ بعدازنماز ظہر سراوان ہاؤس میں قرآن خوانی ہوگی۔ نواب غوث بخش رئیسانی کو 26 مئی1987ء کو دور درہ بولان کے قریب پانچ محافظوں سمیت 27 رمضان المبارک کے دن شہید کیا گیاتھا، بلوچستان کی عہد ساز شخصیت نواب غوث بخش رئیسانی 1924ء کو بلوچستان کے ضلع مستونگ کے علاقے کانک میں نواب سر اسد اللہ خان رئیسانی کے یہاں پیدا ہوئے، ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں سے حاصل کرنے کے بعد وہ کرنل براؤن کیمبرج سکول دیرہ دون اور چیفس کالج میں بھی زیر تعلیم رہے، 1953ئمیں فرگوسن اسکول سے زراعت کے شعبے میں اعلیٰ تیکنیکی مہارت حاصل کرنے کے بعد انہوں نے مٹھڑی میں ماڈرن مہر گڑھ فارم بنایاجو بلوچستان میں ایک جدید زرعی فارم تھا، نواب سر اسد اللہ خان رئیسانی کے انتقال کے بعد انھیں رئیسانی قبیلے کا سربراہ بنایا گیا اور یوں انہیں عملی سیاست میں قدم رکھنا پڑا، شہید نواب غوث بخش رئیسانی 1956ئمیں مغربی پاکستان کی صوبائی اسمبلی کے رکن بنے، 1970میں کچھی ون سے صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے، 1970ء میں نواب غوث بخش رئیسانی اورممتاز سیاست دان و دانشور جی ایم سیدنے بلوچستان متحدہ محاذ اور سندھ متحدہ محاذ کے پلیٹ فارم سے ون یونٹ کیخلاف مشترکہ جدوجہد کا آغاز کیا اور اس جدوجہد کے نتیجے میں انہیں کامیابی حاصل ہوئی اور ملک سے ون یونٹ کا خاتمہ ہوا،نوا ب غوث بخش رئیسانی 28 دسمبر1971ئتا 2 اپریل1972ئتک بلوچستان کے پہلے سول گورنر رہے، 7مئی 1972سے لے کر13فروری 1974تک وفاقی وزیر خوراک و زراعت رہے، صوبائی کابینہ میں سینئر وزیر کے عہدے پر بھی فائز رہے اور بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر بھی رہے، 1977ئکے ضیائالحق کے مارشل لا ئمیں نواب غوث بخش رئیسانی کو گرفتار کیا گیا اور وہ کافی عرصے تک کوٹ لکھپت اور مچھ جیل میں پابند سلاسل رہے،نواب غوث بخش رئیسانی نے جمہوریت کی بالا دستی بلوچستان کے عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے آمریت کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ نواب غوث بخش رئیسانی نے بلوچستان کی سیاسی حالات سے لوگوں کو باخبر رکھنے کے لئے کوئٹہ سے مادری زبان میں پہلے جریدے کی بنیاد رکھی انہوں نے بلوچی، پشتو اور براہوئی زبانوں میں پاکستان ٹیلی ویژن اور ریڈیو سے نشریات کا آغاز کیا،صوبے میں صحافت کو فروغ دیتے ہوئے کوئٹہ پریس کلب کی بنیاد رکھی، نواب غوث بخش رئیسانی 1983 ئسے 1987ء تک جلا وطن بھی رہے۔ نواب غوث بخش رئیسانی کا شماربلوچستان کی ان چند شخصیات میں ہوتا ہے جنھوں نے اپنے صوبے اور قوم کی بے لوث خدمت کی وہ اصولوں کے پابند،قوت فیصلہ اور عوام کے مسائل سے باخبر باوقار اور پر اعتماد شخصیت کے مالک تھے۔ نواب غوث بخش رئیسانی نے بلوچستان میں تعلیم اور زراعت پر خصوصی توجہ دی اور دونوں شعبوں میں آپ نے بے شمار خدمات سر انجام دیں، بلوچستان میں علم، روشنی، اخوت، اتحاد، محبت اور امن کو فروغ دیا،انہوں نے مہر گڑھ پر خصوصی توجہ دی اوروہاں سے آثار قدیمہ برآمد کرکے اسے ساری دنیا میں متعارف کرایا۔ وہاں پر بہت بڑا ثقافتی ورثہ جمع کیاجس کی بدولت بلوچستان کو ساری دنیا میں شہرت ملی، نواب غوث بخش رئیسانی کو 26 مئی1987ئکو جب مہر گڑھ سے کوئٹہ جارہے تھے تو ڈھاڈر سے 3 میل دور درہ بولان کے قریب پانچ محافظوں سمیت 27 رمضان المبارک کے دن شہید کردیا گیا،شہید نواب غوث بخش خان رئیسانی اور ان کے رفقاء کی 39 ویں برسی کی مناسبت سے کل بروز ہفتہ 14 مارچ 2026ء کو بعداز نماز ظہر ان روح کے ایصال ثواب کیلئے سراوان ہاؤس میں قرآن خوانی ہوگی۔



