تعلیم

قومی نصاب 23-2022 کے تحت تیار کردہ کتب میں مقامیت کی جھلک، ڈاکٹر عابد میر

یہ 2018 یا 2019 کی بات ہو گی۔ بلوچستان میں سرکاری نصاب کی چھپی ہوئی چوتھی جماعت کی کتاب کے ایک سبق میں بلوچ اور براہوی کو الگ الگ قوم لکھا گیا تھا۔ میں نے یہ معاملہ فیس بک پہ لکھا۔ اس پہ خاصا غلغلہ اٹھا۔ بی ایس او نے احتجاج شروع کر دیا۔ پریس کلب کے سامنے مظاہرہ ہوا۔ ثنا بلوچ نے اسمبلی میں کتاب ہاتھ میں اٹھا کر اس کے حوالے دیئے اور اس کے خلاف قرارداد پیش کی۔

اس کے کچھ دن بعد میں کالج پہنچا تو اسٹاف روم میں دو مہمان منتظر تھے۔ معلوم ہوا کہ بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ کے نمائندے ہیں۔ سلام علیک کے بعد بتایا کہ چیئرمین صاحب نے بھجوایا ہے، چوتھی جماعت کی اردو کا جو ایشو آپ نے اٹھایا ہے، وہ چاہتے ہیں اب آپ ہی اسے حل کریں یعنی نئی کتاب لکھ کر دیں۔ یحییٰ مینگل صاحب اُن دنوں چیئرمین ہوا کرتے تھے۔ میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میں رائٹر ہوں اور ٹیکسٹ بک بورڈ کی کتابوں کو ریویو بھی کرتا رہا ہوں البتہ ٹیکسٹ بک لکھنے کا میرا کوئی تجربہ نہیں۔ مگر وہ بہ ضد رہے کہ آپ نے مسئلہ اٹھایا ہے، اب آپ ہی اسے حل کریں۔

یہ کتاب نیو کالج پبلی کیشنز کے پاس تھی۔ پبلشر کے ساتھ مل کر ان کے مشوروں سے میں نے کتاب پر ازسرنو کام کیا۔ کوئی چار چھے مہینے لگے ہمیں اس کتاب کو دوبارہ ڈویلپ کرنے میں۔ مگر اس دوران مجھے اندازہ ہوا کہ پبلشر، بورڈ اور کریکولم کے باہمی تنازعات میں ایک نیا رائٹر کس طرح پستا ہے۔ یہ ایسا خوف ناک تجربہ ثابت ہوا کہ میں ٹیکسٹ بک بورڈ کے اچھے خاصے معاوضے والے اس کام سے توبہ تائب ہی ہو گیا۔

پھر کچھ سال بعد پی ایچ ڈی کے داخلے کے بعد کلات سٹیشنرز والے یاسر صدیق صاحب سے پالا پڑا تو وہ آہستہ آہستہ مجھے کھینچ کھانچ کر اس کام کی طرف لے آئے۔ اب گزشتہ برس ہم نے اردو کی پہلی تا پانچویں جماعت کی کتابوں پر کام کیا۔ میرا ٹیکسٹ بک بورڈ اور پبلشرز سے ایک ہی مطالبہ ہوتا تھا کہ نصاب میں مقامیت کی گنجائش پیدا کی جائے اور یہ گنجائش کریکولم میں بھی موجود ہے۔ مثلاً حمد اور نعت شامل کرنی ہے تو لازم نہیں کہ وہ الطاف حسین حالی اور اسماعیل میرٹھی کی ہی ہو۔ مقامی شعرا کو بھی شامل کیا جائے۔ اسی طرح سیاحتی مقامات، تاریخی واقعات، قصہ کہانیوں میں مقامی پن لایا جا سکتا ہے۔

شکر ہے عرصے بعد بورڈ کو ایک پڑھا لکھا چیئرمین ملا۔ انھوں نے اس خیال کی تائید کی۔ ہماری ماہر مضمون بھی اس خیال کی حامی تھیں۔ پبلشر نے کھلی چھوٹ دی کہ کریکولم کے مطابق جو مناسب سمجھیں، ضرور شامل کریں۔ یوں سنگل نیشنل کریکولم کی پابندیوں کے باوجود ہم ان کتابوں میں مقدور بھر مقامی مواد شامل کرنے میں کامیاب رہے۔ ٹیکسٹ بک بورڈ نے ہماری صرف دو کتابیں منظور کیں، البتہ این او سی تمام کتابوں کو جاری کیا۔ یوں پبلشر نے پہلی تا پانچویں جماعت کی پانچوں کتابیں نہایت خوب صورت اور اعلیٰ طباعت کے ساتھ چھاپ دی ہیں۔

میں آپ کو ان کتابوں میں مقامی عنوانات کی کچھ جھلک دکھاتا ہوں:

– جماعت اول
نعت: حسین بخش ساجد
نظم، برسات: عابدمیر
سبق: ہنہ جھیل کی سیر

– جماعت دوم
نعت: ظہیر ظرف
سبق: سبی میلے کی سیر

– جماعت سوم
حمد: منظور وفا
نعت: عاشق بلوچ
سبق: پیر غیب کی سیر
نظم، دیس ہمارا: عابدمیر

– جماعت چہارم
حمد: منظور وفا
سبق: جبل نورالقرآن کا دورہ
سبق: مہرگڑھ میوزیم کی سیر
سبق: بلوچستان کے روایتی کھیل

– جماعت پنجم
نعت: منظور وفا
سبق: چاکر کا قلعہ کی سیر
نظم، پیارے موسم: افضل مراد
سبق: ہماری ثقافت
نظم، صفائی میں صحت ہے: ڈاکٹر منیر رئیسانڑیں
سبق: عبدالعلی اخوندزادہ

اس کے علاوہ اسباق میں اسلم، احمد اور عائشہ والے روایتی ناموں کی بجائے مقامی ناموں (چاکر، بیورغ، ہانی، پلوشہ، خوشحال) وغیرہ کا بھی اضافہ کیا۔ یہ نصاب کو مقامی بنانے کے ہمارے خواب کی ابھی اولین کڑی ہے۔ ہماری خواہش اور کوشش ہے کہ مستقبل میں ہم ایسا نصاب تشکیل دے پائیں جسے پڑھتے ہوئے ہمارے بچے اس سے زیادہ اپنائیت محسوس کریں۔ اس کے لیے کریکولم میں بھی خاصی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ابھی۔

بہ ہر کیف، یہ کتابیں چھپ کر مارکیٹ میں آ چکی ہیں۔ کلات اسٹیشنرز اور آسان سیریز سے دستیاب ہیں۔ ویسے تو سنگل نیشنل کریکولم کے تحت یہ پورے پاکستان کے لیے یکساں طور پر قابلِ عمل ہیں۔ ہماری خواہش ہے کہ بلوچستان کے زیادہ سے زیادہ پرائیویٹ سکولز ان کتابوں کو اپنے ہاں رائج کریں۔ یقین جانیں کہ لاہور، کراچی کی کتابوں کی نسبت یہ ہمارے طلبہ کے لیے زیادہ اپنائیت بھری اور زیادہ مفید ہوں گی۔
ڈاکٹر عابد میر

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker