انٹرنیشنلتازہ ترین

مبینہ طور پر پولیس کے ہاتھوں قتل ہونے والی اسپین کی معروف سماجی شخصیت نعمان قیصر کی نماز جنازہ بارسلونا میں ادا

پاکستان میں مبینہ طور پر پولیس کے ہاتھوں قتل ہونے والے اسپین کی معروف سماجی شخصیت و بزنس مین محمد نعمان قیصر کی نماز جنازہ بارسلونا اسپین میں ادا کر دی گئی۔

واضح رہے کہ پاکستان میں نعمان قیصر کے خلاف 109 کا مقدمہ دائر کیا گیا، جبکہ اسپین کی عدالتوں نے انھیں باعزت بری کر دیا تھا، وہ پاکستان میں راہ داری ضمانت لے کر اپنی بے گناہی ثابت کرنے گئے، تاہم ضمانت کے باوجود انھیں گرفتار کر لیا گیا اور خاندانی ذرائع کے مطابق انھیں مجبور کیا گیا کہ اپنی ضمانت واپس لیں ورنہ انھیں قتل کر دیا جائے گا۔

شدید دباؤ کے بعد ضمانت واپس لے لی گئی اور دوبارہ عدالتوں سے رجوح کیا گیا، آٹھ ماہ بعد ضمانت ہوئی، ضمانت کے فوری بعد دوبارہ انھیں آرٹیکل 440 میں جھوٹا مقدمہ بنا کر عدالت سے ہی گرفتار کر لیا۔

اس مقدمے میں انھیں عدالت نے باعزت بری کر دیا، اس کے فوری بعد ایک اور مبینہ طور پر جھوٹے مقدمے 506 میں ملوث کیا گیا، انھوں نے دوبارہ عدالت میں اس مقدمہ کا بھی سامنا کیا اور معزز ہائیکورٹ نے اس کا نوٹس لیا اور پولیس کو پابند کیا کہ نعمان قیصر کے خلاف نہ کوئی جھوٹا مقدمہ کیا جائے اور نہ انھیں گرفتار کیا جائے اور سی سی ڈی سے مطلوب مقدمات کا ریکارڈ مانگا گیا۔

پولیس، سی سی ڈی اور تمام اداروں نے معزز عدالت کوریکارڈ پیش کیا اور عدالت کو آگاہ کیا کہ نعمان قیصر ہمیں کسی مقدمے میں مطلوب یا ملوث نہیں جس کے بعد انھیں جیل سے رہا کر دیاگیا اور اداروں نے یہ یقین دہانی بھی کرائی کہ وہ نعمان قیصر کو کسی بھی مقدمے میں ملوث یا گرفتار نہیں کریں گے۔

پاکستان میں قیام کے ان 20 دنوں میں انھیں مشورہ دیا گیا کہ ان کے لیے حالات سازگار نہیں اور وہ پاکستان چھوڑ دیں، خاندانی ذرائع کے مطابق انھیں یہ انتباہ بھی کیا گیا کہ سی سی ڈی کو سپاری دی جا چکی ہے اور انھیں جعلی پولیس مقابلے میں قتل کر دیا جائے گا، تاہم انھوں نے اداروں پر اعتماد کرتے ہوئے اپنی کیسز کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔

یکم فروری 2026 کو عدالت سے واپسی پر انھیں دوبارہ غیر قانونی طور پر گرفتار کر لیا گیا، دوبارہ ہائیکورٹ میں پٹیشن دائر کرنے کے بعد عدالت نے سخت ناراضگی کا اظہار کیا، اور توہین عدالت کر نے پر اداروں کو بالخصوص سہیل ظفر چھٹہ کو ریکارڈ سمیت پیش ہونے کا نوٹس دیا۔

ریکارڈ موصول ہونے پر پتہ چلا کہ نعمان قیصر کو جھوٹے مقدمات میں بھی ملوث کیا گیا جن میں دو ایسے 302 کے جھوٹے مقدمات بھی دائر کیے گئے جن میں ایک کے وقت مقدمے کے وقت وہ اسپین میں موجود تھے اور دوسرے منڈی بہا الدین کے مقدمے کے وقت وہ جیل میں تھے۔

پھر جب فاضل عدالت نے پوچھا اب نعمان قیصر کو کس مقدمے میں گرفتار کیا گیا ہے، تو عدالت میں ایک اور جھوٹا 395 چوری کا مقدمہ جو کہ 16 جنوری کو رجسٹرڈ ہوا جس کا معزز عدالت نے سخت نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ 20 فروری تک نعمان قیصر پر کوئی مقدمہ نہیں تھا۔اب اس کے خلاف یہ مقدمے کہاں سے نکل آئے ہیں, جو قتل کے جھوٹے مقدمے میں اس کے لیے ڈی جی لیگل کو خود پیش ہونے کا کہا، لیکن اداروں کے پاس عدالت کو جواب دینے کو کچھ نہ تھا۔

عدالت نے اظہار برہمی کرتے ہوئے اداروں کو غیر اخلاقی اور غیر انسانی سلوک کرنے پر متعدد پولیس اہلکاروں کو معطل کرنے کا حکم دیا اور پابند کیا کہ نعمان قیصر کے خلاف کوئی غیر قانونی غیر اخلاقی اور جھوٹا اقدام کرنے سے گریز کریں۔

نعمان قیصر کے وکیل کی طرف سے متعدد بار کہا گیا کہ انھیں کو ماورائے عدالت قتل کر دیا جائے گا، عدالت نے بہت سخت احکامات دیے ہوئے تمام اداروں کو پابند کیا کہ نعمان قیصر کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی جائے اور انھیں تحفظ فراہم کیا جائے۔

لیکن ان تمام چیزوں کے باوجود تمام عدالتی فیصلوں کو رد کیا گیا، 11 فروری کو رمضان کے مقدس مہینے میں نعمان قیصر کو مبینہ طور سی سی ڈی نے مقابلے میں ہلاک کردیا۔

اس حوالے سے سی سی ڈی پنجاب کا کہنا ہے کہ اس نے نعمان قیصر کی ہلاکت کے حوالے سے کوئی کارروائی نہیں کی اور نہ اس واقعے سے ان کا کوئی تعلق ہے، ان کا کہنا ہے کہ سی سی ڈی نے نعمان قیصر کے خلاف ان کے بہنوئی کے قتل کے سلسلے میں تحقیقات کی تھیں، جس کی منصوبہ بندی دبئی سے کی گئی تھی، اور اس میں اس کے مبینہ کردار کا جائزہ لیا گیا تھا، تاہم انھیں اس مقدمے میں ضمانت مل گئی تھی، جس کے بعد وہ سی سی ڈی کو مطلوب نہیں تھا، جبکہ اس کے خلاف پنجاب پولیس کے پاس ایک اور مقدمہ بھی تھا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker