ایران میں مہنگائی کے خلاف احتجاج شدت اختیار کرگیا، انٹرنیٹ سروس بند، پروازیں منسوخ

ایران کا دنیا سے مواصلاتی رابطہ تقریباً منقطع ہوگیا ، حکام نے بڑھتے ہوئے احتجاج کو قابو میں رکھنے کے لیے پورے ملک میں انٹرنیٹ بند کر دیا، ٹیلی فون کالز نہیں پارہیں، پروازیں منسوخ کر دی گئیں جبکہ ایرانی نیوز ویب سائٹس صرف وقفے وقفے سے اپ ڈیٹ ہو رہی ہیں۔
دوسری جانب سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے مظاہرین پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے کام کرنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ ہنگامہ آرائی کرنے والے سرکاری املاک کو نشانہ بنا رہے ہیں، انہوں نے خبردار کیا کہ تہران غیر ملکیوں کے لیے کرائے کے ایجنٹوں کے طور پر کام کرنے والوں کو برداشت نہیں کرے گا، خامنہ ای نے ٹرمپ کو کہا کہ وہ اپنے ملک کے مسائل پر توجہ دیں۔
28 دسمبر کو شدید مہنگائی کے نتیجے میں ہونے والا احتجاج پورے ایران میں پھیل چکا ہے۔ درجنوں افراد کی ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں اور شدید معاشی صورتحال اور گزشتہ سال اسرائیل اور امریکا کے ساتھ ہونے والی جنگ کے بعد حکام پہلے سے زیادہ کمزور دکھائی دے رہے ہیں۔



