بچپن کے دو دوستوں نے کھیت میں کام کے دوران ہیرا دریافت کر لیا

بچپن کے دو دوستوں نے کھیت میں کام کے دوران ہیرا دریافت کر لیا
🔶 24 سالہ ستیش کھاتک اور 23 سالہ ساجد محمد نے 15.3 قیراط کا ہیرا بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے ضلع پنا میں دریافت کیا۔
🔶 انہیں یہ ہیرا اس زمین کے چھوٹے ٹکڑے پر کام کرتے ہوئے ملا جسے انہوں نے چند ہفتوں قبل ہی لیز پر حاصل کیا تھا۔
🔶 پنا ڈائمنڈ آفس کی جانچ پڑتال میں ثابت ہوا کہ یہ واقعی اصل ہیرا ہے۔
🔶 اس ادارے کے عہدیداران نے بتایا کہ اس ہیرے کی مارکیٹ ویلیو 50 سے 60 لاکھ بھارتی روپے (ایک کروڑ 80 لاکھ پاکستانی روپے سے زائد) ہے۔ اس ہیرے کو جلد نیلام کیا جائے گا۔
🔶 اس ضلع میں ہر 3 ماہ میں ہیروں کی نیلامی حکومتی نگرانی میں ہوتی ہے کیونکہ اس ضلع میں ہیرے اکثر ملتے رہتے ہیں۔
🔶 نیلامی میں فروخت ہونے والے ہیرے کی 12 فیصد رقم حکومت کے پاس جاتی ہے جبکہ باقی رقم اسے دریافت کرنے والے فرد کو ملتی ہے۔
🔶 یہ دونوں دوست بہت غریب ہیں، ایک قصائی کا کام کرتا ہے جبکہ دوسرا پھل فروخت کرتا ہے اور وہ اس ہیرے کی رقم کو زندگی بدلنے کے لیے استعمال کریں گے۔
🔶 ان دونوں کے خاندان اس ضلع کے دیگر خاندانوں کی طرح برسوں سے ہیرے تلاش کر رہے تھے۔
🔶 ساجد محمد کے مطابق ان کے والد اور دادا دہائیوں تک کھیتوں میں کھدائی کرتے رہے مگر انہیں مٹی کے سوا کچھ نہیں ملا۔ ساجد محمد کے والد کے مطابق آخرکار قسمت نے سخت محنت اور صبر کا صلہ دے دیا ہے۔
🔶 ساجد محمد اور ستیش کھاتک نے کہا کہ انہوں نے دولت کے حوالے سے زیادہ بڑے منصوبے نہیں بنائے۔
🔶 ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم زمین خریدنے، کاروبار کو توسیع دینے یا کسی بڑے شہر میں منتقل ہونے کا نہیں سوچ رہے، ابھی ہماری توجہ اس پر ہے کہ ہماری بہنوں کی شادی ہو جائے’۔



