انٹرنیشنل

ڈونلڈ ٹرمپ ہمارے سرپرائز کا انتظار کریں جنرل خاتم الانبیا ہیڈ کوارٹر

ایران کے خاتم الانبیا ہیڈ کوارٹر کے جنرل علی عبدالحی کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہمارے سرپرائز کا انتظار کریں غیر ملکی نشریاتی ادارے کے مطابق علی عبدالحی نے کہا کہ ہمارا ردعمل غیر معمولی ہو گا واضح رہے کہ اسرائیلی حملے میں ایران کے سینئر سیکیورٹی عہدیدار علی لاریجانی، اِن کے بیٹے مرتضی لاریجانی اور ایک معاون شہید ہو گئے ہیں.

دوسری جانب اسرائیل کی وزارتِ صحت کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ایران کی جانب سے ہونے والے حملوں میں 192 افراد زخمی ہوئے اور انھیں ہسپتال منتقل کیا گیا وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ زخمیوں میں سے چار کی حالت درمیانی نوعیت کی ہے، جبکہ 177 افراد کو معمولی زخم آئے ہیں جن کا اعلاج جاری ہے تاہم باقی 11 افراد کی حالت کے بارے میں وضاحت سے کھ نہیں بتایا گیا ہے.
وزارت کی جانب سے جاری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ تنازع کے آغاز سے اب تک 3727 افراد کو زخمی ہونے کے بعد ہسپتال داخل کیا جا چکا ہے ادھر ایران نے امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جاری جنگ کے دوران خلیجی ممالک پر میزائل اور ڈرون حملوں کا سلسلہ تیز کر دیا ہے، جس کے باعث پورا خطہ شدید کشیدگی کی زد میں آ گیا ہے. رپورٹ کے مطابق قطر، متحدہ عرب امارات، کویت، سعودی عرب اور بحرین نے حالیہ گھنٹوں میں متعدد میزائل اور ڈرون حملوں کو ناکام بنانے کا دعوی کیا ہے قطر کی وزارت دفاع کے مطابق ایک میزائل کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا، جبکہ کویت کی نیشنل گارڈ نے ایک ڈرون مار گرانے کی تصدیق کی ہے.
متحدہ عرب امارات میں بھی فضائی دفاعی نظام کو متحرک کیا گیا، جہاں دبئی سمیت مختلف علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں حکام کے مطابق یہ دھماکے دفاعی کارروائیوں کے نتیجے میں ہوئے سعودی عرب نے بھی مشرقی علاقے میں ایک ڈرون کو تباہ کرنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ بحرین نے جنگ کے آغاز سے اب تک سینکڑوں میزائل اور ڈرونز کو ناکام بنانے کا دعوی کیا ہے.
رپورٹ کے مطابق ایران نے 28 فروری سے شروع ہونے والی جنگ کے بعد سے خلیجی ممالک کی جانب سینکڑوں میزائل اور ڈرون داغے ہیں، جن میں بڑی تعداد متحدہ عرب امارات کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی ان حملوں کے باعث خطے میں جانی نقصان بھی ہوا ہے، جبکہ معیشت پر گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں توانائی کی پیداوار متاثر ہوئی ہے اور سیاحت و فضائی سفر بھی شدید متاثر ہوئے ہیں. ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث تیل کی پیداوار میں نمایاں کمی آئی ہے، اور مشرقِ وسطی میں یومیہ تیل کی پیداوار 21 ملین بیرل سے کم ہو کر 14 ملین بیرل تک آ گئی ہے، جس سے عالمی معیشت پر بھی دبا ﺅبڑھ گیا ہے.

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker