انٹرنیشنل

ایران پرکنٹرول حاصل کرنےکیلئے امریکا کو 10 لاکھ فوجیوں کی ضرورت ہوگی: برطانوی اخبار

برطانوی اخبار میں شائع شدہ مضمون میں کہا گیا ہےکہ امریکا اگر واقعی ایران پر کنٹرول حاصل کرنا چاہے تو اسے چند ہزار نہیں بلکہ کم از کم 10 لاکھ فوجیوں کی ضرورت پڑے گی۔

برطانوی اخبار کے عالمی امور کے مدیر اور جنگوں کے حوالے سے معروف تجزیہ کار سیم کائلی کے مطابق ماضی کی جنگوں نے یہ سبق دیا ہے کہ ایران جیسے ملک میں صرف چند ہزار زمینی فوج بھیجنے کی بات دراصل ایک غیر حقیقی اور خطرناک سوچ ہے، یہ خیال نہ صرف عملی طور پر بے بنیاد ہے بلکہ اس کے نتائج بھی نہایت تباہ کن ہو سکتے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ مشرق وسطیٰ میں مزید 10 ہزار امریکی فوجی بھیجے جائیں تاکہ وہ وہاں پہلے سے موجود تقریباً 3 ہزار پیراٹروپرز اور 5 ہزار میرینز کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف زمینی کارروائیوں میں حصہ لیں۔برطانوی تجزیہ کار کے مطابق یہ بات سنجیدگی سے لینے کے قابل نہیں، حقیقت یہ ہے کہ اگر ٹرمپ واقعی کامیابی چاہتے ہیں تو انہیں امریکا کی تقریباً پوری فوج ایران میں اتارنا ہوگی۔

انہوں نے لکھا کہ عراق میں امریکی قیادت میں ہونے والی کارروائیوں کے عروج کے دوران، خاص طور پر 2007سے 2008 میں تقریباً 1 لاکھ 85 ہزار امریکی اور اتحادی فوجی موجود تھے جو کہ صدام حسین کی حکومت کے خاتمے کے بعد پیدا ہونے والے حالات پر قابو کرنے کے لیے بھیجے گئے تھے۔اس کے ساتھ ساتھ 4 لاکھ 50 ہزار سے 5 لاکھ 50 ہزار عراقی سرکاری فورسز بھی اتحادیوں کے ساتھ کام کر رہی تھیں۔

برطانوی صحافی نے لکھا کہ القاعدہ اور صدام حسین کی بعث پارٹی سے وابستہ عناصر پر مشتمل تنظیم داعش نے 2014 میں عراق کے بڑے شمالی حصے پر قبضہ کرلیا اور اپنی نام نہاد ریاست قائم کی اور کئی سال تک عالمی دہشت گردی کو فروغ دیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تقریباً ساڑھے 7 لاکھ فوجی بھی عراق کو مکمل طور پر سنبھالنے کے لیے کافی نہیں تھے۔

سیم کائیلی کے مطابق ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے لیے ‘جس کی آبادی 9 کروڑ ہے اور جو رقبے میں تقریباً مغربی یورپ کے برابر ہے’، امریکا جتنے فوجیوں کو بھیجنے کا سوچ رہا ہے وہ اس تعداد سے بھی کم ہیں جو افغانستان کے صوبہ ہلمند میں جنگ کے عروج پر تعینات کیے گئے تھے۔ ہلمند میں 2006 میں برطانوی اور اتحادی افواج کی تعداد 3 ہزار تھی جو کہ 2010 تک 10 ہزار تک جاپہنچی لیکن پھر بھی وہ علاقے کو محفوظ بنانے میں ناکام رہیں تو امریکا نے اپنے 25 ہزار میرینز وہاں بھیجے۔یوں کل ملا کر 35 ہزار فوجی جن میں امریکی میرینز، برطانوی فوج اور دیگر ممالک کے اہلکار شامل تھے، ایک ایسے علاقے کو بھی محفوظ نہ بناسکے جو ایران سے 28 گنا چھوٹا تھا۔

برطانوی تجزیہ کار کے مطابق USS Tripoli اور USS Boxer پر تعینات امریکی میرینز کے اہلکار اپنی ساخت اور تربیت کے لحاظ سے نہایت مؤثر ہیں اور اگر ضرورت ہو تو ایران کے اہم اہداف،جیسے خارگ جزیرے (جو ایران کی تیل برآمدات کا مرکز ہے) پر قبضہ کرنے کے لیے استعمال کیے جاسکتے ہیں۔اسی طرح انہیں آبنائے ہرمز میں جہازوں کے لیے خطرہ بننے والے ایرانی زمینی نظام کو پیچھے دھکیلنے کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے، ممکن ہے وہ ابتدائی طور پر کامیاب بھی ہو جائیں۔ لیکن پھر روسی ساختہ جدید ‘فرسٹ پرسن ڈرونز’، (جو یوکرین میں استعمال ہو چکے ہیں ) امریکی فوجیوں پر حملہ آور ہوں گے اور ان کے آخری لمحات کی خوفناک ویڈیوز نشر کریں گے۔ یہ وہی مناظر ہیں جن سے ٹرمپ نے وعدہ کیا تھا کہ وہ امریکی عوام کو دوبارہ نہیں گزرنے دیں گے۔

برطانوی صحافی نے لکھا کہ ایران کے اندر پاسداران انقلاب ان ہی حربوں کا استعمال کرے گی جو وہ عراق اور لبنان میں حزب اللہ اور دیگر ملیشیا کو سکھا چکے ہیں۔

عراق اور افغانستان میں کی جنگ میں شامل برطانوی فوج کے سابق لیفٹیننٹ جنرل سر نک بورٹن کے مطابق ایران میں کسی بھی زمینی جنگ میں کامیابی کے لیے امریکا اور اس کے اتحادیوں کو لاکھوں فوجیوں کی ضرورت ہوگی۔کچھ سابق نیٹو جرنیلوں کا بھی کہنا ہے کہ کامیابی کے لیے دس لاکھ سے بھی کہیں زیادہ فوج درکار ہوگی۔

سابق برطانوی جنرل کا کہنا تھا کہ اگر جنگ کا مقصد واضح نہ ہو تو ایسی کارروائی کا مقدر ناکامی ہوگی اور اس وقت ایران کے خلاف امریکی کارروائی کا کوئی واضح مقصد نظر نہیں آتا (سوائے اس کے کہ اسرائیل حکومت کی تبدیلی چاہتا ہے)۔ ایران کے پاس تقریباً 6 لاکھ زمینی فوج ہے، جس میں پاسداران انقلاب، باقاعدہ فوج اور بسیج ملیشیا شامل ہیں اور یہ سب اس انتظار میں ہیں کہ امریکا ایک اور عراق جیسی جنگ میں پھنس جائے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker