امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی .. نیتن یاہو کا طیارہ نامعلوم مقام پر منتقل

امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی .. نیتن یاہو کا طیارہ نامعلوم مقام پر منتقل
🔶 اسرائیلی میڈیا نے بدھ کے روز اطلاع دی ہے کہ وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کا طیارہ بم باری کے خوف سے ملک سے باہر منتقل کر دیا گیا ہے۔ یہ اقدام امریکی اور ایرانی کشیدگی اور تقریباً دو ہفتوں سے جاری احتجاجی مظاہروں کے پس منظر میں امریکی صدر کی جانب سے تہران پر حملے کی دھمکی کے پیشِ نظر کیا گیا ہے۔ دوسری جانب ایران نے دھمکی دی ہے کہ اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان کے خلاف فوجی کارروائی کی تو وہ ان دھمکیوں کا بھرپور جواب دیں گے۔
🔶 بنیامین نیتن یاہو کے دفتر نے فوری طور پر وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعظم کے طیارے کی روانگی ایک "پہلے سے طے شدہ معمول کی تربیتی پرواز کا حصہ” ہے۔ اس سے قبل "فلائٹ ریڈار” ویب سائٹ نے نیتن یاہو کے طیارے کا نامعلوم منزل کی جانب اڑان بھرتے ہوئے پتا چلایا تھا۔
🔶 موصولہ معلومات کے مطابق، صدارتی طیارہ "ونگ آف زون” جنوبی اسرائیل میں واقع "نیواتیم” فضائی اڈے سے اسرائیلی فضائی حدود سے باہر نکل گیا۔ ممکنہ طور پر یہ ایک احتیاطی تدبیر ہے کہ اگر امریکہ نے ایران پر حملہ کیا تو ایران جواب میں "نیواتیم” ایئر بیس پر بم باری کر سکتا ہے۔
🔶 اسرائیلی چینل 12 کے مطابق یہ اقدام مختلف منظرناموں کی مشق کے سلسلے میں سامنے آیا ہے۔ ایسا ہی اسرائیل اور ایران کے درمیان 12 روزہ جنگ کے پہلے دن بھی ہوا تھا۔
🔶 یاد رہے کہ 13 جون 2025 کو جب اسرائیل نے ایران پر فضائی حملے شروع کیے تھے، تو یہ طیارہ بن گوریون ایئرپورٹ سے ملک چھوڑ گیا تھا۔ اس سے قبل اسی سال 13 اپریل کو، ایران کے ممکنہ میزائل حملے سے کچھ دیر پہلے، "ونگ آف زون” طیارے نے نیواتیم ایئر بیس چھوڑ دیا تھا۔



