پاکستان

دکھی مت ہو چھوٹے، ہم فوجی ہیں‘: پاکستان اور انڈیا کی طرف سے لڑنے والے دو بھائیوں کی کہانی

سر عبدالصمد خان رامپور ریاست کے وزیر اعظم ہوا کرتے تھے۔ ان کے سب سے بڑے بیٹے یونس خان پہلے دہرادون کے کرنل براؤن اسکول میں پڑھے۔ اس کے بعد وہ انڈین ملٹری اکیڈمی کے لیے منتخب ہوئے، جہاں سے انھیں گڑھوال رائفلز میں کمیشن ملا۔

سنہ 1920 میں پیدا ہونے والے ان کے چھوٹے بیٹے صاحبزادہ یعقوب خان بھی برطانیہ کی انڈین فوج کے لیے منتخب ہوئے، جہاں سنہ 1940 میں انھیں 18 ویں کنگ ایڈورڈ کیولری (گھڑ سوار فوج) میں کمیشن ملا۔

ان دونوں نے دوسری عالمی جنگ میں حصہ لیا اور دونوں کو انڈین جنرل سروس میڈل سے نوازا گیا۔

یعقوب دوسری عالمی جنگ میں برطانوی فوج کی طرف سے لڑنے کے لیے افریقہ گئے، جہاں مصر اور لیبیا کی سرحد کے قریب طبرق کی لڑائی کے دوران اطالوی فوج نے انھیں قیدی بنا لیا۔

اٹلی میں وہ دو ساتھیوں کے ہمراہ قید سے فرار ہو گئے۔ ان دو ساتھیوں میں سے ایک یحییٰ خان نے مسقتبل میں پاکستان کا جنرل بننا تھا اور دوسرے پی پی کمار منگلم نے انڈیا کا۔ قید سے فرار کے بعد یعقوب کو تو دوبارہ پکڑ لیا گیا لیکن یحییٰ اور کمار منگلم ہاتھ نہ آئے۔

قید کے دوران یعقوب خان نے اطالوی اور جرمن زبان سیکھی۔ دوسری عالمی جنگ ختم ہوتے ہی انھیں رہا کر دیا گیا۔ ان کے دوست انہیں ’جیکب‘ کے نام سے پکارتے تھے۔ اس دوران ان کے بڑے بھائی یونس خان برما میں تعینات رہے۔

خاندان کی تقسیم
جب سنہ 1947 میں انڈیا کی تقسیم ہوئی تو بڑے بھائی صاحبزادہ یونس خان نے انڈین فوج میں ہی رہنے کا فیصلہ کیا جبکہ ان کے چھوٹے بھائی صاحبزادہ یعقوب خان نے پاکستانی فوج میں شمولیت اختیار کر لی۔

ڈومینک لاپیئر اور لیری کولنز اپنی مشہور کتاب ’فریڈم ایٹ مڈ نائٹ‘ میں یعقوب خان کے پاکستان جانے کے فیصلے کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’جب یعقوب خان نے رات کے کھانے کے دوران اپنی ماں کو بتایا کہ وہ پاکستان جانے کا فیصلہ کر چکے ہیں تو وہ یہ سن کر سکتے میں آ گئیں۔ وہ بہت ناراض بھی ہوئیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ہم دو صدیوں سے یہاں رہ رہے ہیں۔ ہمارے خاندان کی قبریں یہیں ہیں۔ میں سیاست نہیں سمجھتی، لیکن ایک ماں ہونے کے ناطے میری خواہشات میں خود غرضی ہے۔ مجھے ڈر ہے کہ ہم ہمیشہ کے لیے بچھڑ جائیں گے۔‘

لیکن یعقوب نہ مانے۔ اگلی صبح وہ رامپور چھوڑ کر چلے گئے۔

لاپیئر اور کولنز لکھتے ہیں: ’جب یعقوب رخصت ہو رہے تھے تو ان کی والدہ نے سفید ساڑھی پہن رکھی تھی جو سوگ کی علامت تھی۔ انھوں نے قرآن کی آیات پڑھ کر انھیں رخصت کیا۔ 25 سال سے ان کے ساتھ کام کرنے والے باورچی رام لال اور ان کے ڈرائیور کندن سنگھ نے بھی نم آنکھوں سے انھیں الوداع کہا۔‘

’انھوں نے اپنے خاندان سے وعدہ کیا تھا کہ پاکستان میں اپنا ٹھکانہ بنا لینے کے چند روز بعد واپس آ کر اپنا سارا سامان لے جائیں گے۔ لیکن یعقوب کبھی اپنے آبائی گھر واپس نہ آئے اور نہ ہی وہ کبھی اپنی ماں کا چہرہ دوبارہ دیکھ سکے۔‘

دونوں بھائی کشمیر کے محاذ پر
انڈیا چھوڑنے کے چند ہی مہینوں کے اندر صاحبزادہ یعقوب خان کشمیر کی برف سے ڈھکی پہاڑیوں میں پاکستانی فوج کی ایک بٹالین کی قیادت کر رہے تھے۔

لاپیئر اور کولنز لکھتے ہیں: ’پاکستانی فوجیوں کو روکنے کی کوششیں گڑھوال رجمنٹ کی ایک کمپنی کر رہی تھی۔ یعقوب خان کی طرح اس کمپنی کی قیادت بھی ایک مسلمان افسر ہی کر رہا تھا۔‘

’جولائی 1947 میں اُس افسر نے پاکستان نہ جانے اور انڈین فوج ہی میں رہنے کا فیصلہ کیا تھا۔ وہ افسر بھی رام پور کا رہنے والا تھا۔ اس کا نام تھا یونس خان۔ وہ صاحبزادہ یعقوب خان کا سگا بڑا بھائی تھا۔‘

دونوں بھائی کشمیر میں جنگ کے میدان میں ایک دوسرے کے آمنے سامنے تھے۔ دونوں میجر کے عہدے پر فائز تھے اور دونوں اپنی اپنی بٹالین کی قیادت کر رہے تھے۔

گولیاں چلنے کا واقعہ اور مختلف بیانات
پاکستانی صحافی حامد میر اپنے مضمون ’دو خانوں کی کہانی‘ میں لکھتے ہیں کہ ‘میجر یونس خان کی بندوق سے چلائی گئی گولی نے ان کے چھوٹے بھائی یعقوب خان کو زخمی کر دیا۔ جب یونس خان کو معلوم ہوا کہ زخمی ہونے والا شخص ان کا چھوٹا بھائی ہے تو انھوں نے زور سے آواز لگائی ’دکھی مت ہو چھوٹے!‘ ہم فوجی ہیں اور ہم نے اپنا فرض نبھایا ہے۔‘

لیکن کرنل یونس کی بہو سمن علی خان اس کہانی کو مکمل طور پر درست نہیں مانتیں۔

وہ کہتی ہیں: ’دونوں بھائی کشمیر کی جنگ میں یقیناً ایک دوسرے کے سامنے تھے، لیکن یونس نے یعقوب پر گولی نہیں چلائی تھی۔ میں نے اس بارے میں اپنی ساس اور اپنے شوہر، دونوں سے پوچھا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا تھا۔ میری ساس کو انھوں نے بتایا تھا کہ ہمیں تو بعد میں پتہ چلا کہ ہم دونوں بھائی ایک ہی محاذ پر لڑ رہے تھے۔‘

یونس کی جانب سے مبارک باد کا پیغام
اس کے بعد اگلے 12 برس تک دونوں بھائیوں کے درمیان کوئی رابطہ نہیں ہوا اور دونوں اپنی اپنی فوج کے لیے خدمات انجام دیتے رہے۔

سنہ 1960 میں جب صاحبزادہ یعقوب خان نے کلکتہ کی ایک لڑکی طوبیٰ خلیلی سے شادی کی تو ان کے بڑے بھائی یونس نے انھیں مبارک باد کا پیغام بھیجا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker