
"سپریم لیڈر کی شہادت اسلامی انقلاب اور مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کے لیے ایک فیصلہ کن موڑ ہے!
اب تین افسوسناک حقیقتیں واضح ہو گئی ہیں:
1) سیکیورٹی کی ہولناک ناکامی — اطلاعات کے مطابق تقریباً 30 میزائل انتہائی درستگی کے ساتھ ایرانی سپریم لیڈر کی رہائش/دفتر کے مقام کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیے گئے، بالکل اسی طرح جیسے گزشتہ سال بیروت میں حزب اللہ کے رہنما کی خفیہ لوکیشن کو انتہائی درستگی سے نشانہ بنایا گیا تھا۔
2) اسرائیل–امریکا کی جارحیت کو بظاہر ایک اندرونی ہاتھ کی مدد بھی حاصل تھی۔ اطلاعات کے مطابق سپریم لیڈر کو ایک ملاقات کے بہانے دفتر بلایا گیا، ایسے وقت میں جب سب کو معلوم تھا کہ اسرائیل کسی بھی وقت حملہ کر سکتا ہے، اور انہیں کسی محفوظ خفیہ بنکر منتقل کرنے کے بجائے رہائش/دفتر میں ہی ایک آسان ہدف بنا دیا گیا۔
3) افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ امریکی–اسرائیلی جارحیت میں ایران کے بعض خلیجی پڑوسیوں کی ملی بھگت بھی شامل دکھائی دیتی ہے۔”



