انٹرنیشنل
ٹرمپ کا غزہ امن 20 نکاتی منصوبہ جاری

ٹرمپ کا غزہ امن 20 نکاتی منصوبہ جاری
1. غزہ کو ایک "انتہا پسندی اور دہشت گردی سے پاک علاقہ” بنایا جائے گا جو اپنے ہمسایوں کے لیے خطرہ نہ ہو۔
2. غزہ کو دوبارہ تعمیر کیا جائے گا تاکہ غزہ کے عوام کو فائدہ پہنچے، جو پہلے ہی بہت زیادہ قربانیاں دے چکے ہیں۔
3. اگر دونوں فریق اس تجویز پر متفق ہو جاتے ہیں تو جنگ فوراً ختم ہو جائے گی۔ اسرائیلی افواج متعین لائن تک پیچھے ہٹ جائیں گی تاکہ یرغمالیوں کی رہائی کی تیاری کی جا سکے۔ اس دوران تمام فوجی کارروائیاں، بشمول فضائی اور توپ خانے کے حملے، معطل رہیں گے اور محاذ کی لائنیں جمی رہیں گی جب تک مکمل انخلا کے حالات پورے نہ ہوں۔
4. اسرائیل کے اس معاہدے کو عوامی طور پر قبول کرنے کے 72 گھنٹے کے اندر تمام یرغمالیوں — زندہ اور جاں بحق — کو واپس کر دیا جائے گا۔
5. تمام یرغمالیوں کی رہائی کے بعد اسرائیل 250 عمر قید کے قیدیوں کے ساتھ ساتھ 1700 ایسے غزی باشندوں کو رہا کرے گا جو 7 اکتوبر 2023 کے بعد گرفتار کیے گئے تھے، بشمول تمام خواتین اور بچے۔ ہر ایک اسرائیلی یرغمالی کی لاش کے بدلے 15 غزی شہداء کی لاشیں واپس کی جائیں گی۔
6. یرغمالیوں کی واپسی کے بعد، وہ حماس کے ارکان جو پرامن بقائے باہمی کو قبول کریں اور اپنے ہتھیار ڈالیں، انہیں معافی دی جائے گی۔ جو حماس ارکان غزہ چھوڑنا چاہیں گے، انہیں محفوظ راستہ اور قبول کرنے والے ممالک میں جانے کی اجازت دی جائے گی۔
7. معاہدے کے قبول ہوتے ہی فوری طور پر مکمل امداد غزہ میں بھیجی جائے گی، جس میں بنیادی ڈھانچے (پانی، بجلی، نکاسی آب) کی بحالی، اسپتالوں اور تنوروں کی مرمت، اور ملبہ ہٹانے کے لیے ضروری سامان شامل ہوگا۔
8. امداد کی تقسیم اور رسائی اقوامِ متحدہ، ریڈ کریسنٹ اور دیگر بین الاقوامی اداروں کے ذریعے بغیر کسی رکاوٹ کے ہوگی۔ رفح کراسنگ دونوں اطراف کے لیے اسی میکانزم کے تحت کھولی جائے گی جو 19 جنوری 2025 کے معاہدے میں شامل تھی۔
9. غزہ کو ایک عارضی "ٹیکنوکریٹک فلسطینی کمیٹی” کے تحت چلایا جائے گا جو عوامی خدمات کی فراہمی اور بلدیاتی امور کی دیکھ بھال کرے گی۔ یہ کمیٹی اہل فلسطینی ماہرین اور بین الاقوامی ماہرین پر مشتمل ہوگی، جس پر "بورڈ آف پیس” کی نگرانی ہوگی۔ اس ادارے کی سربراہی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کریں گے، دیگر عالمی رہنماؤں، بشمول ٹونی بلیئر، کو شامل کیا جائے گا۔ یہ ادارہ غزہ کی ترقی اور فنڈنگ کے فریم ورک کا تعین کرے گا، یہاں تک کہ فلسطینی اتھارٹی اصلاحات مکمل کر کے غزہ کا کنٹرول سنبھالنے کے قابل ہو۔
10. غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے ٹرمپ اکنامک ڈیویلپمنٹ پلان تشکیل دیا جائے گا، جس میں مشرقِ وسطیٰ کے جدید شہروں کی طرز پر ترقیاتی منصوبے تیار کرنے والے ماہرین شامل ہوں گے۔ اس منصوبے کے ذریعے روزگار اور ترقی کے مواقع پیدا کیے جائیں گے۔
11. ایک خصوصی اکنامک زون قائم کیا جائے گا جس میں شریک ممالک کے ساتھ تجارتی مراعات طے ہوں گی۔
12. کسی کو بھی زبردستی غزہ چھوڑنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔ جو لوگ جانا چاہیں گے وہ آزاد ہوں گے اور واپس آنے کا حق بھی رکھیں گے۔ عوام کو غزہ میں رہنے اور بہتر مستقبل بنانے کی ترغیب دی جائے گی۔
13. حماس اور دیگر گروہوں کا غزہ کی حکومت میں کوئی براہِ راست یا بالواسطہ کردار نہیں ہوگا۔ تمام عسکری و دہشت گرد ڈھانچے، بشمول سرنگیں اور اسلحہ بنانے کی فیکٹریاں، تباہ کی جائیں گی۔
14. علاقائی شراکت دار اس بات کی ضمانت دیں گے کہ حماس اور دیگر گروہ اپنے وعدوں پر قائم رہیں اور "نیا غزہ” اپنے ہمسایوں یا اپنے عوام کے لیے خطرہ نہ ہو۔
15. امریکہ عرب اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر ایک عارضی "انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس (ISF)” تشکیل دے گا جو فوراً غزہ میں تعینات ہوگی۔ یہ فورس فلسطینی پولیس کو تربیت اور معاونت دے گی اور سرحدی علاقوں میں سکیورٹی کو یقینی بنانے میں مدد کرے گی
16. اسرائیل غزہ پر قبضہ یا انضمام نہیں کرے گا۔ جیسے ہی ISF کنٹرول سنبھالے گی، اسرائیلی فوج مرحلہ وار انخلا کرے گی، صرف ایک حفاظتی پٹی برقرار رہے گی جب تک غزہ مکمل طور پر محفوظ نہ ہو جائے۔
17. اگر حماس اس تجویز کو مسترد کرتی ہے تو مذکورہ منصوبہ ان علاقوں میں لاگو ہوگا جو IDF سے ISF کو منتقل کر دیے جائیں گے۔
18. ایک "بین المذاہب مکالمہ” عمل شروع کیا جائے گا تاکہ فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے رویوں اور بیانیوں کو بدل کر پرامن بقائے باہمی کی فضا قائم کی جا سکے۔
19. جیسے غزہ کی تعمیرِ نو اور فلسطینی اتھارٹی کی اصلاحات آگے بڑھیں گی، فلسطینی عوام کے لیے ریاستی خودمختاری اور حقِ خود ارادیت کی راہ ہموار کی جائے گی۔
20. امریکہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان سیاسی افق پر مذاکرات کا آغاز کرے گا تاکہ پرامن اور خوشحال بقائے باہمی کے امکانات پیدا کیے جا سکیں۔



