
بھارت کے سینئر سیاستدان اور کانگریس سے تعلق رکھنے والے رکن پارلیمنٹ ششی تھرور نے کرکٹ کو سیاست زدہ کرنے پر تنقید کرتے ہوئے کہا پاکستان کا بھارت میچ سے بائیکاٹ ویک اپ کال ہونی چاہیے۔
پاکستان کی جانب سے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں بھارت کے خلاف میچ سے بائیکاٹ کے معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے ششی تھرور کا کہنا تھا بنگلا دیشی کرکٹر مستفیض الرحمان کو کولکتا میں کھیلنے کے معاہدے سے محروم نہیں کیا جانا چاہیے تھا، مستفیض الرحمان کو معاہدے سے محروم کرنا نہایت بدقسمتی کی بات تھی، سیاسی مداخلت نے صورتحال کو مزید خراب کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا میرا خیال ہے کہ بنگلا دیش کا ردِعمل حد سے زیادہ تھا جبکہ پاکستان نے بنگلا دیش کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طور پر ایسا کیا ہے۔
کانگریس رہنما نے کہا کہ کھیل کو سیاست کی نظر سے دیکھنا افسوسناک ہے، یہ بہت شرمناک ہے کہ کھیل کو سیاست زدہ کیا گیا ہے، یہ معاملہ قابو سے باہر ہو رہا ہے، ہمیں سنجیدگی سے اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی ضرورت ہے، کھیل خصوصاً کرکٹ عوام کے لیے بہت اہمیت رکھتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ کھیل کا میدان قریب لانے کا ذریعہ ہونا چاہیے نہ کہ تنازعات کو ہوا دینے کا، یہ صورتحال تمام متعلقہ فریقوں کے لیے ویک اپ کال ہے، تمام فریق ہنگامی بنیادوں پر ایک دوسرے سے رابطہ کریں اور معاملے کا حل نکالیں۔
یاد رہے کہ آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 6 فروری سے بھارت اور سری لنکا میں شیڈول ہے جبکہ پاکستان اور بھارت کا میچ 15 فروری کو ہونا ہے تاہم گزشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف نے چیئرمین پی سی بی محسن نقوی سے ملاقات کے بعد قومی ٹیم کی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں شرکت کی منظوری دی تاہم بھارت کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کا اعلان کیا۔



