تیس سالہ مذہبی جنگ، جس نے یورپ کی بیس فیصد آبادی ختم کر دی

مئی 1618ء میں شروع ہونے والی تیس سالہ مذہبی جنگ نے 40 لاکھ سے لے کر ایک کروڑ 20 لاکھ کے قریب لوگوں کی جانیں لیں۔ اس جنگ کی وجہ سے یورپ کی تاریخ پر دور رس نتائج مرتب ہوئے، ایک طرف جدید قومی ریاستوں کی بنیاد پڑی اور دوسری طرف ریاستی امور میں مذہبی مداخلت کم ہوئی۔
خیال کیا جاتا ہے کہ چار لاکھ پچاس ہزار افراد جنگ میں براہ راست مارے گئے، جب کہ ایک بڑی تعداد جنگ کی وجہ سے آنے والے قحط اور بیماریوں کا شکار ہوئی۔
جنگ کی ابتدا اور فریقین
اس جنگ کے شروع ہونے کے اشارے 1618ء سے پہلے ہی نظر آنے شروع ہو گئے تھے لیکن 1618ء میں سلطنت روما کے شہنشاہ فرڈیننڈ دوئم نے اپنی سطلنت میں رومن کیتھولک مذہبی فرقے کی مکمل اجارہ داری قائم کرنے کی کوشش کی، جس کے خلاف بوہیمیا اور اس وقت کے آسٹریا نے بغاوت برپا کی، جس کے نتیجے میں پانچ برس تک کشمکش چلتی رہی جو فرڈیننڈ نے جیتی۔
تاہم 1625ء میں ڈنمارک کے بادشاہ کرسچین چہارم نے سوچا کہ کیوں نہ وہ جرمنی کے کچھ حصوں پہ قبضہ کر کے اپنے ان کھوئے ہوئے علاقوں کا ازالہ کر لے، جو اسے سویڈن کے ہاتھ کھونے پڑے لیکن کرسچین چہارم کو شکست ہوئی۔
اسی اثنا میں سویڈن کے حکمراں گستاف ایڈولف دوئم نے جرمنی پہ حملہ کر دیا اور اپنے کیتھولک دشمن مشن کے لیے اس نے جرمن شہزادوں کی حمایت بھی حاصل کر لی۔
پولینڈ نے موقع کو غنیمت جانتے ہوئے روس پر حملہ کردیا۔
اس جنگ میں ایک طرف سلطنت روما اور اس کے اتحادی تھے جب کہ دوسری طرف جرمنی کے پروٹیسٹنٹ ٹاؤنز اور پرنسپلٹیز یا ریاستیں اور ان کے اتحادی تھے۔
کیا یہ خالصتا مذہبی جنگ تھی؟
اس جنگ میں ایک ہی فرقے سے تعلق رکھنے والے ممالک بھی ایک دوسرے کے ساتھ سیاسی بنیادوں پر لڑے۔
مثال کے طور پر فرانس رومن کیتھولک تھا لیکن اس کی دشمنی اسپین کے ہیپسبرگ حکمراں سے تھی، جو خود ایک کیتھولک خاندان سے تھے۔
اسی بنیاد پر کچھ مورخین اس کو خالصتاﹰ فرقہ وارانہ یا مذہبی جنگ نہیں کہتے کیونکہ ان کے خیال میں اس میں سیاسی عوامل بھی شامل تھے لیکن مورخین کی اکثریت اس کو ایک فرقہ وارانہ یا مذہبی جنگ ہی قرار دیتی ہے کیونکہ زیادہ تر فریقوں نے اتحاد فرقہ ورانہ بنیادوں پر بنایا تھا۔
جنگ کے نقصانات
اس جنگ کا مرکز جرمنی رہا اور سب سے زیادہ ہلاکتیں بھی یہیں ہوئیں اور یہ ہر لحاظ سے متاثر بھی زیادہ ہوا۔ اس جنگ میں یورپ کی بیس فیصد آبادی لقمہ اجل بنی۔ کچھ یورپی ممالک میں آبادی میں کمی کی شرح ساٹھ فیصد تھی۔ مورخین اس کا موازنہ پہلی عالمی جنگ اور اس کے بعد آنے والے اسپینش فلو سے کرتے ہیں، جس میں یورپ کی پانچ فیصد آبادی موت کا شکار ہوئی جب کہ دوسری جنگ عظیم میں سوویت یونین کی بارہ فیصد آبادی ہلاک ہوئی تھی۔
صرف سویڈن کی فوج نے جرمنی میں 2200 قلعے، اٹھارہ ہزار گاؤں اور پندرہ سو قصبے تباہ کیے۔ کچھ اندازوں کے مطابق جرمنی کے ایک تہائی قصبے صفحہ ہستی سے مٹا دیے گئے۔
جنگ کے اثرات
جب یہ جنگ ختم ہوئی تو یورپ میں طاقت کا توازن ایک بار پھر تبدیل ہو گیا نیدرلینڈز جو اسپین کے ماتحت تھا وہ ازاد ہو گیا اور اسپین کا مغربی یورپ میں تسلط بہت حد تک کم ہوا اس کی جگہ فرانس مغربی یورپ کا اہم ملک بن گیا جبکہ بالٹک سویڈن کے ہاتھ میں آ گیا، رومن ایمپائر کے ماتحت رہنے والی ریاستوں کومکمل ازادی دے دی گئی اور تاریخی طور پر رومن کیتھولک ایمپائر اف یورپ کا جو تصور تھا اور جس میں پوپ روحانی رہنما ہوتا تھا اور ایک شہنشاہ اس کی قیادت کرتا تھا، وہ تصور دم توڑ گیا اس کی جگہ یورپ میں مقتدر ریاست وجود میں آگئی۔
اس جنگ کو ختم کرنے کے لیے 1648ء میں معاہدہ ویسٹ فیلیا کیا گیا، جس کے تحت ریاستوں کو جنگ اور امن کے فیصلے کرنے کا اختیار دیا گیا۔ فریقین کے لیے عام معافی کا اعلان کیا گیا اور اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ دشمنی دوبارہ شروع نہیں کی جائے گی۔
مختلف یورپی ریاستوں میں بسنے والی فرقہ وارانہ اقلیتوں کو برداشت کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور انہیں یہ بھی آزادی دی گئی کہ وہ ہجرت کریں۔
اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ طاقت کے بل بوتے پر کسی کا بھی مذہبی فرقہ تبدیل نہ کرایا جائے۔ اس سے ایک طرف قومی ریاستوں کا تصور ابھرا، ان کی سرحدیں کسی حد تک واضح ہوئیں اور فرقہ وارانہ کشیدگی کسی حد تک کم ہوئی، جس نے آگے جا کر یورپ میں سیکولرازام کا راستہ ہموار کیا۔
اس معاہدہ میں فرانس اور اسپین کے درمیان زمینی اور دوسرے تنازعات کے لیے مصالحتی راستہ اختیار کرنے کی تجویز دی گئی اور یہ بھی کہا گیا کہ مصالحت کرانے والوں کا انتخاب دونوں فریقوں کی رضا مندی سے ہوگا۔
نئے علاقوں کی شمولیت کو مختلف ممالک میں تسلیم کیا گیا، جیسا کہ فرانس اور سویڈن۔
نوٹ: ڈی ڈبلیو اردو کے کسی بھی بلاگ، تبصرے، کالم یا ایسے کسی مضمون میں ظاہر کی گئی رائے مصنف یا مصنفہ کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے متفق ہونا ڈی ڈبلیو کے لیے قطعاﹰ ضروری نہیں ہے۔
ادارت: شکور رحیم



