
شہریوں اور مختلف عوامی حلقوں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مختلف علاقوں میں کھلے عام ایرانی پیٹرول فروخت کیا جا رہا ہے، جبکہ ضلعی انتظامیہ اس غیر قانونی عمل کے خلاف مؤثر کارروائی کرنے میں ناکام نظر آتی ہے۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ایرانی پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور غیر قانونی فروخت نے نہ صرف شہریوں کو معاشی دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے بلکہ یہ عمل قانونی پٹرول پمپس کے کاروبار کو بھی شدید متاثر کر رہا ہے۔
شہریوں نے الزام عائد کیا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے چشم پوشی کے باعث مافیا مزید مضبوط ہو رہا ہے۔
شہریوں نے ڈپٹی کمشنر کوئٹہ، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر اور دیگر متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ شہر میں قائم تمام غیر قانونی ایرانی پیٹرول پمپس کے خلاف فوری اور سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔



