کیا پاکستانی شہری خطے میں سب سے مہنگا پیٹرول خرید رہے ہیں؟

حکومت پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے دوران عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے کے باعث پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اب تک کا سب سے بڑا اضافہ کر دیا ہے۔
گزشتہ روز وزیرپیٹرولیم علی پرویز ملک اور وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے اعلان کیا کہ پیٹرول کی قیمت میں 137 روپے 24 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 458 روپے 41 پیسے فی لیٹر کر دی گئی۔
اس طرح ڈیزل کی قیمت میں184 روپے 49 پیسے فی لیٹر اضافہ کرکے ڈیزل کی نئی قیمت 520 روپے 35 پیسےمقرر کردی گئی۔
حکومت نے پیٹرول137 روپے 24 پیسے اور ڈیزل 184 روپے 49 پیسے فی لیٹر مہنگا کر دیا
مشرق وسطیٰ میں جنگ کے آغاز کے بعد سے ملک میں مجموعی طور پر ڈیزل کی قیمت میں 239 روپے 55 پیسےجبکہ پیٹرول کی قیمت میں 192 روپے 24 پیسے فی لیٹر اضافہ ہو چکا ہے۔
دوسری جانب عالمی سطح پر دیکھا جائے تو گزشتہ ایک ماہ کے دوران ڈبلیو ٹی آئی خام تیل کی فی بیرل قیمت میں مجموعی طور پر 49 فیصد اضافہ ہوا ہے جس کے بعد اس وقت ڈبلیو ٹی آئی کی فی بیرل قیمت تقریباً 111 ڈالر فی بیرل ہے۔
اسی طرح برینٹ کروڈ کی فی بیرل قیمت میں گزشتہ ایک ماہ کے دوران مجموعی طور پر 34 فیصد اضافہ ہوا ہے اور اس وقت اس کی فی بیرل قیمت تقریباً 110 ڈالر فی بیرل ہے۔
ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ہونے والے اس ہوش ربا اضافے نے عوام کی نیندیں اڑا کر رکھ دیں ہیں اور انہیں یہ خدشہ ہے یہ اضافہ مجموعی طور پر مہنگائی میں اضافے کا سبب بنے گا۔
اسرائیل امریکا ایران جنگ کے بعد ڈیزل میں 239، پیٹرول میں 192 روپے فی لیٹر کا اضافہ ہوچکا
لیکن کیا خطے میں صرف پاکستان میں ہی پیٹرول اس قدر مہنگا ہے یا پھر دیگر ممالک میں بھی صورتحال کچھ ایسی ہی ہے؟ آئیے جانتے ہیں۔
پڑوسی ملکی بھارت میں پاکستان کے برعکس ہر شہر اور ریاست میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت مختلف ہوتی ہے۔ بھارت میں آج پیٹرول کی اوسط قیمت تقریباً 101 بھارتی روپے فی لیٹر ہے۔
بھارت میں پیٹرول کی یہ قیمت پاکستانی روپے میں تقریباً 303 روپے اور امریکی ڈالرز تقریباً 1.1 ڈالر فی لیٹر بنتی ہے۔



