صحت

جان لیوا امراض قلب سے محفوظ رکھنے میں مددگار 9 آسان غذائی عادات

دنیا بھر میں سب سے زیادہ اموات امراض قلب کے نتیجے میں ہوتی ہیں۔

دل کی صحت سے جڑے مسائل بشمول ہارٹ اٹیک، دل کی دھڑکن کی رفتار میں بے ترتیبی یا اس عضو کے مختلف حصوں کو پہنچنے والے ہر قسم کے نقصان کے لیے امراض قلب کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔

ایسا تصور کیا جاتا ہے کہ امراض قلب کا سامنا بڑھاپے یا کم از کم درمیانی عمر میں ہوتا ہے، مگر حالیہ برسوں میں جوان افراد میں امراض قلب کی شرح میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

مگر جان لیوا امراض قلب سے خود کو محفوظ رکھنا زیادہ مشکل نہیں ہوتا، بس آپ کو چند آسان نکات کو زندگی کا حصہ بنانے کی ضرورت ہوتی ہے۔

امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کی جانب سے 9 نکات پر مشتمل غذائی اقدامات کے بارے میں بتایا گیا جن سے دل کی صحت کو مختلف امراض سے محفوظ رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔

جرنل سرکولیشن میں شائع نکات میں کہا گیا کہ صحت کے لیے مفید غذاؤں کا استعمال دل کی صحت کے لیے ضروری ہوتا ہے۔

1۔ صحت مند جسمانی وزن کو برقرار رکھنے کے لیے جسمانی سرگرمیوں کے ساتھ متوازن کیلوریز کو جزو بدن بنانا ضروری ہے۔

2۔ اسی طرح متعدد اقسام کے پھلوں اور سبزیوں کو غذا کا حصہ بنانا چاہیے۔

3۔ ریفائن کاربوہائیڈریٹس کی بجائے سالم اناج کو ترجیح دینا چاہیے۔

4۔ پروٹین کے صحت بخش ذرائع کو ترجیح دینی چاہیے خصوصاً نباتاتی آپشن جیسے بیج، دالوں اور گریاں وغیرہ کا استعمال کرنا چاہیے۔

5۔ نقصان دہ چکنائی کی بجائے صحت کے لیے مفید چکنائی جیسے نباتاتی آئل کا استعمال کرنا چاہیے۔

6۔ الٹرا پراسیس غذاؤں کا استعمال محدود کرنا چاہیے۔

7۔ چینی کا استعمال کم کرنا چاہیے خاص طور پر مشروبات میں۔

8۔ نمک کے استعمال کو کم کرنا چاہیے۔

9۔ الکحل سے گریز کرنا چاہیے۔

امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے مطابق ضروری نہیں کہ آپ ان تمام نکات پر عمل کریں مگر ان کو بتدریج اپنانے سے دل کی صحت بہتر ہوتی ہے۔

خیال رہے کہ ہائی بلڈ پریشر، ہائی کولیسٹرول اور تمباکو نوشی کو دل کے متعدد امراض کا خطرہ بڑھانے والے عناصر تصور کیا جاتا ہے مگر طرز زندگی کی تبدیلیاں بھی اس حوالے سے اہم ہوتی ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ امراض قلب کی تشخیص جتنی جلد ہو جائے بہتر ہے، کیونکہ اس سے سنگین پیچیدگیوں سے بچنے میں مدد مل سکتی ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker