انٹرنیشنل

ایران کی پہلی 10 نکاتی تجویز مسترد، نئی تجاویز پر ایران اور پاکستان سے بات چیت ہورہی ہے: جے ڈی وینس

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ ایران کی پہلی دس نکاتی تجویز ردی کےڈبے میں پھینک چکے، اب دوسری دس نکاتی تجویز پرایران اور پاکستان سے بات چیت ہورہی ہے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نائب امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ نیو یارک ٹائمز پہلی دس نکاتی تجویز کو پھیلا رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ امریکا اس پر بات چیت کر رہا ہے جبکہ امریکا اسے ردی کے ڈبے میں پھینک چکا ہے، ایران سے کچھ لوگ پروپیگنڈے کے لیے غلط دس نکات پیش کر رہے ہیں۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف کل رات پاکستان پہنچیں گے: ذرائع

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکرکےبیان پرردعمل میں کہا کہ قالیباف کا ٹویٹ دیکھا ہے، 15 نکاتی پلان ہے، اگر صرف 3 نکات پر اختلاف ہے تو اچھی بات ہے کہ بہت سی باتوں پر اتفاق ہے۔

جے ڈی وینس نے کہا ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کا فیصلہ کیا اور اسلام آباد میں مذاکرات کا فیصلہ کیا تاہم بات چیت میں لوگوں کی نیتوں پر عدم اعتماد کافی ہے، انہوں نے سودے بازی کی تو سنگین نتائج بھگتیں گے۔

جنگ بندی کی خلاف ورزی پربولے سیز فائز ہمیشہ سے مشکلات کا شکار ہوتا ہے۔ کوئی سیز فائز تھوڑی بہت خامی کے بغیر نہیں ہوتا۔

ایران جنگ بندی کیلئے امریکا نے پاکستان پر دباؤ ڈالا، ٹرمپ 21 مارچ سے جنگ بندی کے خواہاں تھے: برطانوی اخبار

لبنان جنگ بندی سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے جے ڈی وینس نے کہا ایرانی حکومت نے سمجھا کہ لبنان بھی سیز فائر میں شامل ہو گا، ہم نے خود یہ کبھی نہیں کہا، اگر ایران چاہتا ہے کہ معاملہ لبنان کی وجہ سے ٹوٹ جائے تو یہ ان کا انتخاب ہو گا۔

انہوں نے کہا ہرمز میں ٹریفک بڑھی ہے، تیل کی قیمتیں کم ہوئی ہیں، ڈیل یہ ہے کہ سیز فائر ہو اور بات چیت ہو اور ہرمز کھلے، اب ایرانیوں کو اگلا قدم اٹھانا ہو گا، مجھے نہیں معلوم کہ ایرانیوں نے کہا کہ جے ڈی وینس کو مذاکرات میں شامل کریں۔

جے ڈی وینس نے کہا ایرانی آبنائے ہرمز کو کھولنے کا وعدہ کررہےہیں، انہوں نے پیغام دیا ایرانی ہمیں جتنا کچھ دیں گے اتنا ہم انھیں دیں گے، ہم ان پر پابندیاں کم کرنے پر بات کر سکتے ہیں، ہمارے پاس لیوریج ہے کہ ہم انہیں بہت کچھ دے سکتے ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker