بلڈ شوگر کو کنٹرول میں رکھنے کیلئے ورزش کا بہترین دورانیہ سامنے آگیا
اگر آپ بلڈ شوگر کو کنٹرول میں رکھنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے ورزش مؤثر ثابت ہوتی ہے۔

مگر ورزش کا دورانیہ اس حوالے سے زیادہ اہم ہوتا ہے۔
یہ بات کینیڈا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔
برٹش کولمبیا یونیورسٹی کی تحقیق میں بلڈ شوگر کی سطح کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے ورزش کے مثالی وقت کا جائزہ لیا گیا۔
تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ورزش کا طویل دورانیہ بلڈ شوگر کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے بہترین ہوتا ہے، خاص طور پر اگر حال ہی میں ذیابیطس ٹائپ 2 کی تشخیص ہوئی ہو۔
اس تحقیق کے لیے 58 افراد کو شامل کیا گیا تھا اور انہیں 26 ہفتوں کے ورزش پروگرام کا حصہ بنایا گیا۔
ان افراد کو فٹنس اسمارٹ واچز پہنچائی گئی تھیں تاکہ رئیل ٹائم میں ورزش کی عادات کا تجزیہ کیا جاسکے۔
ان افراد کے خون کے نمونوں اور بلڈ شوگر کی سطح کو ورزش پروگرام سے قبل اور بعد میں دیکھا گیا۔
اس پروگرام کو 2 مراحل میں تقسیم کیا گیا تھا۔
اولین 13 ہفتوں کے دوران ان افراد کو کوچنگ سپورٹ فراہم کی گئی جبکہ آخری 13 ہفتوں میں اس سپورٹ کو کم کر دیا گیا
تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ بلڈ شوگر کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے ورزش کا دورانیہ سب سے زیادہ اہم ہوتا ہے، چاہے آپ کسی بھی قسم کی ورزش کر رہے ہوں۔
تحقیق کے مطابق ہر قسم کی ورزش کا طویل دورانیہ بلڈ شوگر کی سطح کو کنٹرول کرنے میں سب سے زیادہ مؤثر ثابت ہوتا ہے۔
محققین نے بتایا کہ ہم نے دریافت کیا کہ ورزش کا دورانیہ سب سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے، خاص طور پر ابتدائی چند ہفتوں میں، ورزش کی قسم یا شدت سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اگر ذیابیطس کی تشخیص کے آغاز میں مریض زیادہ وقت تک ورزش کو عادت بنالیں تو طویل المعیاد بنیادوں پر میٹابولک صحت کو فوائد حاصل ہوتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ آغاز میں ورزش کا اوسط دورانیہ 30 سے 45 منٹ ہونا چاہیے جس سے بلڈ شوگر کی سطح میں 0.3 فیصد کمی آتی ہے، جو کہ کم محسوس ہوتی ہے مگر ورزش کا معمول برقرار رکھنے سے نمایاں فرق نظر آتا ہے۔
اس تحقیق کے نتائج جرنل میڈیسن اینڈ سائنس ان اسپورٹس اینڈ ایکسرسائز میں شائع ہوئے۔



