نیتن یاہو کے خلاف فوجداری مقدمے کی سماعت کا اتوار سے دوبارہ آغاز

اسرائیلی اخبار یروشلم پوسٹ کے مطابق اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو کے خلاف فوجداری مقدمے کی سماعت جنگی حالات کے باعث عارضی تعطل کے بعد اتوار سے دوبارہ شروع کی جائے گی۔
عدالتی نوٹس کے مطابق اگلی سماعت اتوار صبح 9:30 بجے یروشلم ڈسٹرکٹ کورٹ میں ہوگی، جہاں دفاعی گواہ کا بیان ریکارڈ کیا جائے گا۔
نوٹس میں بتایا گیا ہے کہ ہنگامی صورت حال کے خاتمے اور عدالتی نظام کی معمول پر واپسی کے بعد سماعتیں اب معمول کے شیڈول کے مطابق ہوں گی، جن کے تحت اتوار کو یروشلم جب کہ پیر سے بدھ تک تل ابیب ڈسٹرکٹ کورٹ میں کارروائی جاری رہے گی۔
واضح رہے کہ یہ تعطل صرف نیتن یاہو کے مقدمے تک محدود نہیں تھا۔ 28 فروری کو ایران کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے بعد وزارت انصاف نے عدالتوں میں ”خصوصی ہنگامی نظام“ نافذ کیا تھا، جس کے تحت صرف ہنگامی نوعیت کے مقدمات کی سماعت جاری رکھی گئی۔
یہ ہنگامی نظام متعدد بار توسیع کے بعد جمعرات تک برقرار رہا تاہم اب اس کے خاتمے کے ساتھ ہی نیتن یاہو کا مقدمہ سمیت دیگر غیر ہنگامی فوجداری اور سول مقدمات کی سماعتیں بھی دوبارہ شروع کی جا رہی ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ کا نیتن یاہو کے مقدمے پر ردعمل
دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے فوجداری مقدمے اور خطے کی صورت حال پر ردعمل دیا ہے۔



