پاکستان

وفاقی آئینی عدالت نے باپ سے پہلے فوت ہونیوالی بیٹی کے ورثاء کے وراثتی حقوق بحال کردیے

وفاقی آئینی عدالت نے وراثت کے حقوق سے متعلق ایک اہم اور تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے باپ سے پہلے فوت ہونے والی بیٹی کے ورثاء کے وراثتی حقوق بحال کردیے۔

عدالت نے درخواست گزار ورثا کی فریق مقدمہ بننے کی درخواست منظور کرتے ہوئے قرار دیا کہ وراثتی حق فوری طور پر پیدا ہوتا ہے اور اسے محض تکنیکی بنیادوں پر ختم نہیں کیا جاسکتا۔

عدالت کے مطابق باپ کے انتقال سے قبل وفات پانے والی بیٹی کے ورثاء بھی قانونی طور پر حق دار ہیں اور انہیں مقدمے میں ضروری فریق شامل کیا جانا چاہیے۔

درخواست گزاروں کی جانب سے سپریم کورٹ کے وکیل حافظ احسان احمد کھوکھر پیش ہوئے، جنہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ریونیو ریکارڈ میں غلطیوں کے باعث ورثاء 68 برس تک اپنے جائز حق سے محروم رہے۔

عدالت نے اس مؤقف سے اتفاق کرتے ہوئے قرار دیا کہ اس کیس میں ایک پوری قانونی شاخ کو غیر منصفانہ طور پر محروم رکھا گیا۔عدالت نے کنسولیڈیشن کی کارروائی کو ناقص قرار دیتے ہوئے حکم دیا کہ ورثاء کو مقدمے میں شامل کیا جائے تاکہ وہ اپنے حقوق کا مؤثر دفاع کر سکیں۔

فیصلے میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ انصاف کی راہ میں تکنیکی نکات کو رکاوٹ نہیں بننے دیا جا سکتا۔

خیال رہے کہ یہ مقدمہ سردار بیگم کے ورثاء سے متعلق تھا، جنہیں اپنے حق کے حصول کے لیے 68 سال طویل قانونی جدوجہد کرنا پڑی۔ عدالت کے اس فیصلے کو ماہرین قانون نے وراثتی حقوق کے تحفظ کے حوالے سے ایک اہم نظیر قرار دیا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker