پاکستان

’امریکا تیار، ایران کا انکار‘: اسلام آباد میں مذاکرات کے دوسرے مرحلے کی تیاریاں جاری

اسلام آباد میں امریکا ایران مذاکرات کے متوقع دوسرے مرحلے کے لیے سیکیورٹی کے انتظامات انتہائی سخت کردیے گئے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکی نمائندوں کی پیر کے روز پاکستان روانگی کے بیان کے بعد وائٹ ہاؤس نے امریکی میڈیا کو تصدیق کی ہے کہ نائب صدر جے ڈی وینس، اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر ایران کے ساتھ مذاکرات میں شرکت کریں گے، تاہم ایران کی جانب سے مذاکرات کے دوسرے مرحلے میں شرکت کے حوالے سے تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی ہے۔

ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’ارنا‘ کے مطابق ایران نے امریکا کے غیر حقیقی مطالبات، مؤقف میں مسلسل تبدیلی کو مذاکرات میں پیش رفت کی راہ میں رکاوٹ قرار دیا ہے۔ ایرانی حکام نے امریکا کی جانب سے جاری بحری ناکہ بندی کو جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ موجودہ حالات میں مذاکرات ممکن نہیں ہیں۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی ’تسنیم‘ کے مطابق ایران نے ابھی تک مذاکراتی وفد کو اسلام آباد روانہ کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ جب تک امریکی بحری ناکہ بندی نافذ رہے گی، کوئی بات چیت نہیں ہوگی۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ خود یہ اعلان کرچکے ہیں ایران سے مذاکرات کے لیے امریکی نمائندے پیر کی شام اسلام آباد روانہ ہوں گے، تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ اس وفد میں کون کون شامل ہوگا۔

ابتدائی طور پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر جے ڈی وینس اسلام آباد نہیں جائیں گے کیونکہ سیکرٹ سروس کو انتظامات کے لیے وقت درکار ہے۔ تاہم اسی دوران امریکی انتظامیہ کے دیگر عہدیدار مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتے رہے کہ نائب صدر مذاکرات میں شریک ہوں گے۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق وائٹ ہاؤس نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے امریکا ایران مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے پاکستان آنے کی تصدیق کی ہے۔

رپورٹ کے مطابق خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر بھی امریکی وفد کا حصہ ہوں گے، یہ تینوں شخصیات اس سے قبل مذاکرات کے پہلے دور میں بھی شریک تھیں۔

رپورٹ کے مطابق ایران کے ساتھ حتمی معاہدہ طے پانے کی صورت میں صدر ٹرمپ نے پاکستان آنے کا فیصلہ کیا تو اس صورت میں نائب صدر جے ڈی وینس کو امریکا واپس جانا پڑے گا۔ جس کی وجہ امریکی سیکرٹ سروس کی وہ پالیسی ہے جس کے تحت صدر اور نائب صدر کو بیک وقت ایک ہی مقام پر رکھنے سے گریز کیا جاتا ہے، یہی اصول اندرونِ ملک سفر کے دوران بھی لاگو ہوتا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker