ایچ آئی وی کا پھیلاؤ: استعمال شدہ سرنجز پر عائد پابندی پر عملدرآمد یقینی بنانے کا حکم
اسلام آباد: ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان (ڈریپ) نے دوبارہ استعمال ہونے والی سرنجز پر عائد پابندی پر عملدرآمد یقینی بنانے کا حکم دے دیا۔

وفاقی حکام کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 15 مہینوں میں بچوں میں ایچ آئی وی کے 2108 کیسز سامنے آچکے ہیں جس کے بعد ڈریپ نے ملک بھرمیں ممنوعہ سرنجز کے خلاف مارکیٹ سروے شروع کرنے کی ہدایت کی ہے۔
وفاقی حکام نے بتایا کہ پاکستان میں 2 اور 5 ملی لیٹر روایتی ڈسپوزیبل سرنجز پر پابندی برقرار ہے، 31 جولائی 2021 سے روایتی ڈسپوزیبل سرنجز کی درآمد اور تیاری پر مکمل پابندی برقرار ہے جب کہ اب 10 ملی لیٹر سرنجز کے ممکنہ غلط استعمال پر پابندی لگانے پر بھی غور شروع کیا گیا۔
حکام کے مطابق ڈریپ کی نیشنل ٹاسک فورس کو ملک گیر سروے اور خلاف ورزیوں کی نشاندہی کا ٹاسک دیا گیا ہے۔
ڈریپ کے مطابق میڈیکل ڈیوائسز بورڈ روایتی سرنجز کی تمام رجسٹریشنز منسوخ کرچکا ہے، ڈریپ نے بازار میں غیر قانونی سرنجز کی فروخت پر سخت کارروائی کا حکم دیا ہے اور تمام صوبائی ڈرگ کنٹرول اداروں کو فوری اقدامات کی ہدایت کرتے ہوئے سروے رپورٹ 27 اپریل تک ڈریپ کو جمع کرانے کی ڈیڈ لائن دی ہے۔



